1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان سپریم کورٹ کے باہر بم دھماکا، 20 افراد ہلاک

افغان سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان وزارت صحت کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم اڑتالیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رواں ماہ کے اندر اندر دارالحکومت کابل میں سخت سکیورٹی کے حصار میں واقع افغان سرکاری عمارات پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نجیب اللہ دانش کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ حملہ ایک پیدل چلنے والے خود کُش حملہ آور نے اس وقت کیا، جب ملازمین اپنے اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑیوں اور بسوں پر سوار ہو رہے تھے۔

سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ افغان وزارت صحت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ افغان سپریم کورٹ اس سڑک کے کنارے واقع ہے، جو بین الاقوامی ہوائی اڈے اور امریکی سفارت خانے کی طرف جاتی ہے۔

ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ چند ہفتے پہلے طالبان کے دو خودکش حملہ آوروں نے افغان پارلیمان سے باہر نکلتے ہوئے ملازمین کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم تیس افراد ہلاک اور اسّی کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

طالبان ماضی میں ایسی دھمکیاں دے چکے ہیں کہ اگر ان کے عسکریت پسندوں کو سزائیں دینے کا عمل جاری رکھا گیا تو وہ عدلیہ پر مزید خونریز حملے کریں گے۔

کل پیر کو اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اس عالمی ادارے کے ریکارڈ کے مطابق 2016ء افغانستان میں شہری ہلاکتوں کے حوالے سے بدترین سال تھا، جس میں تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار عام شہری، جن کی ایک تہائی تعداد بچوں پر مشتمل تھی، ہلاک یا زخمی ہوئے۔

رواں ماہ کے آغاز پر ایک امریکی نگران ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ سال افغان فوج اور پولیس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ کہ مجموعی طور پر ملک پر کابل حکومت کے کنٹرول میں نمایاں کمی نظر آ رہی ہے۔

کچھ روز پہلے ایک ایسی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی، جس کے مطابق ترقیاتی کاموں پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اس ملک کو سکیورٹی کے بحران کا سامنا ہے۔