1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان سرحد کھول دی جائے، نواز شریف

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے افغان سرحد کھولنے کا حکم جاری کیا ہے۔ سرحدوں کی بندش سے اطرف کے کاروباری حلقوں کو روزاہ کی بنیاد پر لاکھوں امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

Pakistan und Afghanistan Grenzöffnung bei Torkham (DW/O. Deedar)

پاک افغان سرحد پر طورخم گزرگاہ

آج پیر بیس مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے افغان سرحد پر کاروباری  راستوں کو کھولنے کا حکم دیا ہے۔ نواز شریف کے حکم کے مطابق تمام سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھول دی جائیں۔ پاکستانی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا ہے۔ اس بیان میں شریف نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کابل حکومت ایسے تادیبی اقدامات کرے گی تا کہ دوبارہ سرحدی راستوں کو بند کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

جنوبی ایشیا میں افغان سرحدی گزرگاہوں کو انتہائی مصروف راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور سامان کی خرید و فرخت کے علاوہ بھارت کو روانہ کیا جانے والا افغان پھل اور خشک میوہ جات بھی اسی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم کے بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے یہ فیصلہ خیرسگالی کے طور پر کیا گیا ہے کیونکہ دونوں ملک مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ شریف کے مطابق افغانستان میں پائیدار امن سارے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کا خیال ہے کہ سرحدی بندش کسی طور پر بھی دونوں ملکوں کی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔

Pakistan und Afghanistan Grenzöffnung bei Torkham (DW/O. Deedar)

طورخم سرحدی راستے پر افغانستان میں داخل ہونے والوں کا ہجوم

یہ امر اہم ہے کہ رواں مہینے کے اوائل میں عارضی طور پر طورخم اور چمن کی سرحدوں کو کھولا گیا تھا تا کہ محصور افغان باشندے اپنے ملک میں داخل ہو سکیں۔

 ان راستوں کو پاکستانی فوج نے رواں برس وسط فروری میں حفاظتی نکتہ نگاہ کے تناظر میں بند کیا تھا۔ اسلام آباد کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پاکستان کو مطلوب تمام دہشت گرد افغانستان کی سرزمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس دوران سرحد پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان شیلنگ کو بھی رپورٹ کیا گیا تھا۔ اس کشیدگی کے دوران دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا تھا۔

سرحدی گزرگاہوں کی سولہ فروری سے شروع ہونے والی بندش پر اطراف کی تاجر برداری اور کاروباری حلقے شکایت کرتے پھرتے تھے کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ اُدھر افغانستان میں پاکستان سے برآمد کی جانے والے مصنوعات اور اشیائے خوراک کی قیمتوں میں حیران کُن اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں پر پاکستانی اشیاء کے لدے ٹرک سرحد عبور کرنے کی اجازت کے منتظر بتائے جاتے ہیں۔