1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان ’دلہن بچی‘ سسرال کے ظلم کا شکار

ہفتے کے روز ایک کم عمر افغان دلہن نے خود پر سسرال میں ہونے والے ظلم اور تشدد کی داستان بیان کی ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایک بڑا دھچکہ لگا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی زیادتیاں افغانستان میں اچھوتی بات نہیں۔

default

15 سالہ سحر گل آخر ظلم سہتے سہتے اس نقطے پر آن پہنچی، جہاں چپ سادھنا مشکل ہو جاتی ہے۔ کابل کے ایک ہسپتال میں زیر علاج اس بچی نے افغانستان کی خاتون وزیر صحت کے ایک دورے کے موقع پر آخر خود پر ہونے والے ظلم کی کہانی نہ صرف انہیں بلکہ میڈیا کو بھی سنا دی۔

اس بچی کے بقول اس کی ساس نے اسےچھ ماہ تک بیت الخلا میں بند رکھا اور اس کے ناخن کھینچ اتارے۔ یہ بچی بمشکل بول پا رہی تھی تاہم وہ اپنی آپ بیتی سنانے میں کامیاب رہی۔

اس بچی کے بقول سات ماہ قبل اس کے بھائی نے اسے پانچ ہزار ڈالر کے عوض اس کے شوہر کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ اپنی کانپتی آواز میں سحر گل نے میڈیا کو بتایا، ’میرے سسرال خصوصاً میری ساس نے مجھے کئی ماہ تک بیت الخلا میں بند رکھا۔‘

اس موقع پر وزیر صحت نے کہا کہ یہ افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں عالمی برادری کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد کے باوجود افغانستان میں حقوق انسانی خصوصاً حقوق نسواں انتہائی زبوں حالی کا شکار ہیں، جن کے مداوے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔

Gewalt an Frauen in Afghanistan

افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات عام ہیں

یہ بچی زیادہ خون بہہ جانے اور جسم کے مختلف حصوں کے جھلس جانے اور کئی طرح کے زخموں کا شکار ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سحر گل کئی طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ ذہنی دھچکے کا شکار بھی ہوئی ہے۔

وزیر صحت ڈاکٹر ثریا دلیل کے مطابق، ’یہ ابھی بچی ہے۔ اس کی عمر شادی کے لیے قانونی عمر سے کم ہے۔ یہ صرف 15 برس کی ہے اور اس کا تعلق ملک کے ایک دور افتادہ علاقے سے ہے تاہم اس کی یہ دلدوز داستان پورے افغانستان کی نمائندگی کرتی ہے۔‘‘

پیر کے روز اس لڑکی کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بگرام میں اُس کے شوہر کے گھر کے ایک تہہ خانے سے برآمد کیا گیا تھا۔ اس بچی کے خاندان کا تعلق قریبی صوبے بدخشاں سے ہے۔ اس کے اہل خانہ نے سسرال کی جانب سے بچی سے ملنے کی اجازت نہ دینے پر اس بچی کی گمشدگی کی رپورٹ مقامی تھانے میں لکھوائی تھی، جس کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر یہ بچی بازیاب کروائی۔

واضح رہے کہ افغانستان میں آزاد ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق رواں برس ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے 1026 کیسز سامنے آئے۔ گزشتہ برس یہ تعداد 2700 رہی تھی۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تقریباً 67 فیصد خواتین کو کسی نہ کسی صورت میں گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ عاطف توقیر

ادارت امجد علی

DW.COM