1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان داعش کے ہاتھوں وحشیانہ قتل، طالبان نے بھی مذمت کر دی

عسکریت پسند گروپ داعش کی جاری کردہ ایک حالیہ ویڈیو نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ گروہ افغان طالبان سے بھی زیادہ سخت نظریات کا حامل ہے۔ اس ویڈیو میں آئی ایس کے جہادیوں نے افغان قیدیوں کو باندھ کر بموں سے اڑا دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسلامک اسٹیٹ یا داعش کی طرف سے جاری کردہ اس ویڈیو کی افغان طالبان کی طرف سے کی جانے والی مذمت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں عسکری گروہ ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں میں رقابت بڑھتی جا رہی ہے۔ شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قبضے کے بعد اب افغانستان میں قدم جماتی ہوئی شدت پسند تنظیم داعش اس وقت افغان طالبان کو انہی کے ملک میں چیلنج کر رہی ہے۔

آئی ایس یا دولت اسلامیہ کی طرف سے ایک ایسی ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں افغان قیدیوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں اور انہیں زندہ حالت میں دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو بظاہر افغانستان کے کسی مشرقی علاقے میں بنائی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں سرسبز پہاڑی علاقہ دیکھا جا سکتا ہے اور یہ علاقہ دھند میں گِھرا ہوا ہے۔

اس ویڈیو میں زیر حراست افغان قیدیوں کو ’مرتد‘ قرار دیتے ہوئے انہیں طالبان یا پھر کابل حکومت کے حامی قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان نے ان قیدیوں کو سویلین قرار دیتے ہوئے داعش کے ہاتھوں ان کے اس ’ظالمانہ‘ انداز میں قتل کی مذمت کی ہے۔ اس بارے میں منگل گیارہ اگست کے روز طالبان کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ’’یہ ایک خوفناک ویڈیو ہے۔ اغوا کار خود کو داعش سے منسلک بتاتے ہیں اور انتہائی ظالمانہ طریقے سے سفید داڑھیوں والے قبائلی عمائدین اور دیہاتیوں کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیتے ہیں۔‘‘

افغان طالبان نے اپنے اس بیان میں مزید کہا ہے، ’’چند غیر ذمہ دار اور جاہل افراد کی طرف سے اس جرم اور اس طرح کے دیگر ظالمانہ اقدامات کی نہ تو اسلام اجازت دیتا ہے اور نہ ہی کوئی مسلمان انہیں برداشت کر سکتا ہے۔‘‘

اس حوالے سے اہم بات یہ بھی ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے داعش کے اس اقدام اور ویڈیو کی مذمت تو کی گئی ہے لیکن گزشتہ چودہ برسوں کے دوران خود طالبان عسکریت پسندوں پر بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

افغان طالبان کو حال ہی میں داعش کی طرف سے براہ راست مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ افغان طالبان کے متعدد ذیلی لیکن آپس میں ایک دوسرے کے حریف گروپ تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے داعش میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔ طالبان نے جس ویڈیو پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے، چار منٹ سے زیادہ دورانیے کی وہ ویڈیو گزشتہ اتوار کے روز ایک جہادی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی تھی جبکہ اس میں عربی اور پشتو زبانوں میں کیے گئے تبصرے بھی شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان کے سابق رہنما ملا عمر کے انتقال کے بعد طالبان کی صفوں میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں، جن سے داعش فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ملا عمر کا بیٹا اور بھائی پہلے ہی طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور کی حمایت سے انکار کر چکے ہیں۔ دوسری جانب قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے والے طالبان کمانڈر طیب آغا بھی ملا منصور کی تقرری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہو چکے ہیں۔