1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان دارالحکومت میں بم دھماکا، کم از کم 35 افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک زوردار بم دھماکے میں کم ازکم پینتیس افراد ہلاک اور بیالیس زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکا افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے نائب محمد محقق کی رہائش گاہ کے قریب ہوا۔

افغانستان میں ہزارہ شیعہ برادری کے اکثریتی علاقے میں ہونے والے اس خودکش حملے میں کم از کم پینتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چُکی ہے  جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق یہ خود کش دھماکا کابل شہرکے مغربی حصے کے تھرڈ ڈسٹرکٹ میں کیا گیا۔

 ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ کم از کم پندرہ موٹر کاریں اور پندرہ دوکانیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ اس سے علاقے کی کئی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں یونیورسٹی کی عمارت بھی شامل ہے۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول  کر لی ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر میں بہت زیادہ گہرا دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے اور لوگ دھماکے کے مقام سے دور بھاگ رہے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نجیب دانش کا کہنا تھا کہ فی الحال زخمیوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کو لے جانے والی ایک چھوٹی بس مکمل طور پر دھماکے میں تباہ ہو گئی ہے۔

رواں برس دارالحکومت کابل میں ہونے والا یہ دسواں بڑا حملہ تھا۔ سترہ جولائی کو اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سب سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکتیں دارالحکومت کابل میں ہوئی ہیں اور یہ مجموعی ہلاکتوں کا انیس فیصد ہیں۔

جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ’’ابھی تک ایک ہزار اڑتالیس عام شہری ہلاک ہوئے اور ان میں سے 219 ہلاکتیں کابل میں ہوئیں۔‘‘اسی طرح کابل میں ہونے والے حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 829 بنتی ہے۔

افغان دارالحکومت میں طالبان کی طرف سے یہ بم دھماکا ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب امریکا اور اس کی اتحادی فورسز افغانستان کے حوالے سے ایک نئی حکمت عملی  پر غور کر رہے ہیں۔ ابھی ایک روز پہلے ہی افغانستان میں سرگرم طالبان نے شمالی اور وسطی صوبوں میں دو اضلاع پر قبضے کا اعلان کیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ افغان فوج کو ملک کے کئی مقامات پر طالبان کی شدید عسکری کارروائیوں کا سامنا ہے۔

DW.COM