1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان خواتین، طالبان طرز کی حکومت سے خوف کا احساس

افغان خواتین میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے نتائج کے مطابق زیادہ تر خواتین اس بارے میں خوف زدہ ہیں کہ ان کے ملک میں دوبارہ طالبان کی طرح کی حکومت اقتدار میں آ سکتی ہے۔

default

کابل سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ سروے ایکشن ایڈ نامی امدادی تنظیم نے کروایا۔ اِس دوران پورے ملک میں ایک ہزار سے زائد خواتین سے ان کی رائے دریافت کی گئی۔ اس جائزے کے نتائج نے ثابت یہ کیا کہ زیادہ تر افغان خواتین اس بارے میں خوف زدہ ہیں کہ ہندو کش کی اس ریاست میں ایک بار پھر طالبان انتظامیہ کی طرح کی حکومت اقتدار میں آ سکتی ہے۔

سروے کے مطابق ایک تہائی سے زائد افغان خواتین کے خیال میں مستقبل میں جب غیر ملکی فوجی دستے افغانستان سے چلے جائیں گے، تو وہاں کی صورت حال موجودہ حالات کے مقابلے میں مزید خراب ہو جائے گی۔

NO FLASH USA Afghanistan Pilotenausbildung von Frauen in Lackland Air Force Base Texas

اس جائزے میں حصہ لینے والی خواتین کی بہت بڑی اکثریت نے یہ بھی کہا کہ جب سے افغانستان میں طالبان حکومت ختم ہوئی ہے، ان کے حالات زندگی بہتر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اب خود کو زیادہ محفوظ بھی تصور کرتی ہیں۔

ایکشن ایڈ کی طرف سے کابل میں جاری کیے گئے اس جائزے کے نتائج کے مطابق زیادہ تر افغان خواتین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان کی طرح کا کوئی انتہا پسند گروپ دوبارہ کابل میں اقتدار میں آ گیا، تو وہ تمام ترقی اور بہتری ضائع ہو جائے گی، جو افغان خواتین نے گزشتہ ایک عشرے میں کی ہے۔

NO FLASH Zeitung Afghanistan

اس جائزے میں حصہ لینے والی زیادہ تر پیشہ ور خواتین نے یہ خوف بھی ظاہر کیا کہ اگر ان کے ملک میں طالبان کی طرح کے کوئی حکمران دوبارہ اقتدار میں آ گئے، تو شاید وہ ملک چھوڑنے پر بھی مجبور ہو جائیں گی۔

ان رائے دہندگان میں عملی زندگی میں اپنا کردار ادا کرنے والی ایسی افغان خواتین بھی شامل تھیں، جو ملک کے مختلف شہروں میں اس وقت تعلیم، سیاست یا سوشل سروس جیسے شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

افغانستان میں یہ سروے اس سال 26 جون سے لے کر 15 اگست تک کے عرصے میں مکمل کیا گیا۔ اس دوران رائے دہندگان سے یہ پوچھا گیا تھا کہ انہوں نے پچھلا ایک عشرہ کیسے گذارا، اس وقت ان کے حالات زندگی کیسے ہیں اور مستقبل کے بارے میں ان کی سوچ اور خدشات کیا ہیں۔

USA Afghanistan Pilotenausbildung von Frauen in Lackland Air Force Base Texas

رائے دہندگان میں سے قریب نصف خواتین کا تعلق شہری علاقوں سے تھا اور نصف کا دیہی علاقوں سے۔ ان میں سے 66 فیصد کا کہنا تھا کہ ماضی کے مقابلے میں ان کی زندگیاں آج زیادہ محفوظ ہیں۔ 72 فیصد خواتین کے مطابق طالبان دور کے خاتمے کے بعد سے ان کا معیار زندگی کافی بہتر ہوا ہے۔

افغانستان میں طالبان 1996ء سے لے کر 2001ء تک اقتدار میں رہے تھے اور تب قومی، سماجی اور معاشرتی زندگی میں خواتین کا کردار نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ یہ سب کچھ طالبان نے جبری طور پر اسلام پسندی کے نام پر کیا تھا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت:امجد علی

DW.COM