1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان خواتین: طالبان سے پہلے اور بعد

افغانستان کے شہروں میں دکھائی دینے والی طالبات کو اس بات کی علامت قرار دیا جاتا ہے کہ وہاں طالبان کی حکومت گرنے کے بعد خواتین کو کس قدر حقوق حاصل ہوئے ہیں۔

default

اس وقت سے لے کر اب تک، وہاں خواتین کو تعلیم، ووٹنگ اور ملازمتوں کے بنیادی حقوق ملے ہیں، جنہیں طالبان غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود خواتین کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

افغان رہنماؤں کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو خواتین کی اس صورت حال کی وجہ خیال کیا جاتا ہے۔

امریکہ اور نیٹو اس بات پر بارہا زور دے چکے ہیں کہ کسی بھی طرح کے امن مذاکرات افغانستان کے آئین کے مطابق ہونے چاہئیں، جس کے مطابق خواتین اور مرد برابر ہیں۔

تاہم افغانستان کی ڈیڑھ کروڑ خواتین کے لیے، جو وہاں کی آبادی کا تقریباﹰ نصف ہیں، برابری کے امکانات روشن نہیں ہیں۔

افغان پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی رکن اور نوبل امن انعام کی نامزدگی حاصل کرنے والی 66 سالہ ثریا پارلیکا اس حوالے سے کہتی ہیں:’’میں قطعی پر امید نہیں ہوں، ہمیں مذاکرات کے ایجنڈے کا علم نہیں اور اس سے افغانستان کی تمام خواتین کو پریشانی ہے۔‘‘

انہوں نے روئٹرز سے بات چیت میں مزید کہا:’’ڈر ہے کہ خواتین وہ سب کچھ کھو دیں گی، جو انہیں پھر سے حاصل ہوا تھا۔‘‘

پارلیکا نے بتایا کہ طالبان شدت پسند ان پر آٹھ مرتبہ ایسے شدید حملے کر چکے ہیں، جن میں وہ بال بال بچی ہیں۔

Mohammed Omar Gouverneur von Kundus Afghanistan

افغانستان کے صدر حامد کرزئی

کابل میں افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک کی کو ڈائریکٹر Martine van Bijlert کہتی ہیں: ’’انہیں (خواتین کو) رہنماؤں کے درمیان اقتدار کی شراکت کے کسی ایسے معاہدے سے خطرہ لاحق ہے، جس میں ان کے مفادات کا خیال نہ رکھا گیا ہو۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:’’فی الحال اس عمل کی ضمانت کے لیے کوئی بھی موجود نہیں ہے۔ کوئی نہیں، جو کہے کہ اس معاملے سے اچھی طرح نمٹا جانا بہت اہم ہے۔‘‘

بعض حلقے افغان صدر حامد کرزئی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ معاشرے کے قدامت پسند طبقے کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے خواتین کے حقوق سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس