1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان خاتون پائلٹ کی امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواست

امریکا میں ایک افغان خاتون پائلٹ کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرا دیے جانے پر افغانستان میں انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس پائلٹ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ان کی زندگی کا خطرات لاحق ہیں۔

افغان فضائیہ کی اس پائلٹ کو امریکا میں تربیت کے لیے بھیجا گیا تھا، تاہم 18 ماہ پر محیط تربیتی کورس کے مکمل ہونے پر انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دائر کر دی۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے آبائی ملک میں ان کی زندگی خطرے میں ہے۔

افغان وزارت دفاع نے اتوار کے روز ان خبروں کی تصدیق کی ہے کہ 25 سالہ کیپٹن نیلوفر رحمانی نے امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرا دی ہے۔ اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رحمانی کے حوالے سے بتایا تھا کہ اگر وہ وطن واپس گئیں، تو ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوں گے۔

کیپٹن رحمانی کو سن 2015ء میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ’ویمن آف کریج‘ یا ’جرات مند خاتون‘ کا ایورڈ بھی دیا گیا تھا اور انہیں افغانستان میں خواتین کی صورت حال میں بہتری کے حوالے سے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

افغان وزارت دفاع کے ایک ترجمان کے مطابق افغان حکومت کو امید ہے کہ رحمانی کی درخواست مسترد کر دی جائے گی، ’’جب ایک فوجی افسر ہی عدم تحفظ اور خوف کی شکایت کرے، تو پھر عام آدمی کیا کرے گا؟ انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے ایک توجیہ بنا لی ہے، مگر افغانستان میں ہزاروں پڑھی لکھی خواتین ہیں، جو ہر ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں اور ان کے لیے یہ ملک محفوظ ہے۔‘‘

کیپٹن رحمانی نے سن 2012ء میں فلائٹ اسکول سے گریجویٹ کیا تھا اور سی 208 نامی فوجی کارگو طیارہ اڑا رہی تھیں، پھر انہیں مزید تربیت کے لیے امریکا بھیجا گیا، اور ہفتے کے روز انہیں وطن واپس لوٹنا تھا، تاہم وہ امریکا ہی میں رک گئیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قدامت پسند افغان معاشرے میں خواتین پر کئی طرح کی پابندیاں عائد ہیں اور اگر کوئی خاتون اس شعبے میں کام کرنے کی کوشش کرے، جسے معاشرے نے مردوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے، تو اس کی زندگی خطرے کا شکار ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر افغان باشندوں کی جانب سے نیلوفر رحمانی کے حوالے سے تنقید دیکھی جا رہی ہے۔ ان سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریاستی پیسہ ضائع کیا اور مہنگی تربیت حاصل کرنے کے بعد ذمہ داریاں انجام دینے سے پہلو تہی کی۔