1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’افغان حکام کی طالبان سے تقریبا ہر روز بات چیت ہوتی ہے‘

امن مذاکرات میں جمود کے باجود افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی طالبان رہنماؤں سے ملکی آئین اور سیاسی مستقبل سے متعلق ٹیلی فون پر تقریبا ہر روز بات چیت ہوتی ہے۔ جانیے طالبان نے کونسی شرائط رکھی ہیں؟

اس کے علاوہ افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی طالبان سے ہر دوسرے ماہ گفتگو کرتے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے پی نے ایسی دستاویزات بھی دیکھی ہیں، جن کے مطابق افغان حکام نے نہ صرف قطر بلکہ پاکستان میں بھی طالبان رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

افغان ذرائع کے مطابق ان میں سے کوئی بھی فریق عوامی سطح پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن مذکورہ دستاویزات سے ان موضوعات سے متعلق معلومات ملتی ہیں، جن پر گفتگو کی گئی ہے۔ ان دستاویزات سے ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ طالبان کچھ تبدیلیوں کے ساتھ افغانستان کے آئین اور انتخابات کے عمل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایک سینئر افغان عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پراے پی کو بتایاکہ طالبان آئین میں مخصوص تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افغانستان میں اسلامی نظام کے تحت حکمرانی کا تصور رکھتے ہیں۔ اس عہدیدار کے مطابق طالبان لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں ہیں لیکن وہ ان کے لیے علیحدہ علیحدہ اسکول اور کالج چاہتے ہیں۔

اسی طرح طالبان دفاع اور عدالتی نظام سمیت تمام شعبوں میں خواتین کے ملازمت کرنے پر راضی ہیں لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ سپریم کورٹ کی جج کوئی خاتون بنے۔

اس کے علاوہ طالبان آئینی طور پر یہ گارنٹی چاہتے ہیں کہ کسی خاتون کو ملک کا صدر نہیں بنایا جائے گا۔

ایسی خصوصی عدالتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو ان ہزاروں مقدمات کی نگرانی کرے، جن کے مطابق طاقتور اور بااثر شخصیات نے غریب لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ طالبان چاہتے ہیں کہ یہ زمینیں ان کو واپس کی جائیں، جن سے چھینی گئی تھیں۔

ایک عبوری حکومت کے قیام کے بعد انتخابات کروائے جائیں اور سابق حکومت سے وابستہ کسی بھی شخصیت کو عبوری حکومت کی انتظامیہ میں شامل ہونے کی اجازت نہ ہونے دی جائے۔

طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک انتخابات کا انعقاد نہیں ہو جاتا، فریقین اپنے اپنے زیر کنٹرول علاقے پر حکمرانی جاری رکھیں۔

دوسری جانب افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے لیکن اس معاملے سے وابستہ افغان عہدیداروں نے بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ معصوم ستانکزی کی طالبان رہنما عباس ستانکزی سے تقریبا روزانہ ہی گفتگو ہوتی ہے۔ دریں اثناء افغانستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اتمر کے دفتر نے بھی طالبان کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے کوئی جواب دینے سے انکار کر دیا ہے۔

DW.COM