1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ کے آٹھ سال، واشنگٹن میں اجلاس

افغانستان میں طالبان کی خلاف جنگ کے آج آٹھ سال پورے ہونے کے موقع پر واشنگٹن میں منعقدہ ایک اجلاس میں طالبان کی طاقت کو ختم کرنے کے لئے افغانستان میں مزید دستوں کی تعیناتی کے آپشن پر غور کیا گیا۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نے آج وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ اور امریکی ایوان نمائندگان کے اہم ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکان کے ساتھ ایک ملاقات کی، جس میں افغانستان کے لئے نئی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر اسٹینلے میک کرسٹل کی مزید چالیس ہزار دستوں کی درخواست وائٹ ہاؤس میں ہوئی، اس میٹنگ میں بحث کا مرکز رہی۔

ریپبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کے درمیان افغانستان میں مزید دستے بھیجنے پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر جان میک کین نے کہا: ’’مجھے پورا یقین ہے کہ جنرل میک کرسٹل نے افغانستان کی صورتحال کا جو جائزہ پیش کیا ہے، وہ بالکل درست ہے۔ اسی لئے میں سمجھتا ہوں کہ مک کرسٹل کی مزید دستوں کی درخواست کو فوری طور پر منظور کیا جانا چاہیئے۔‘‘

USA Afghanistan Dänemark Treffen Barack Obama und General Stanley McChrystal Flughafen Kopenhagen

جنرل مک کرسٹل نے صدر اوباما سے حالیہ ملاقات

دوسری طرف ڈیموکریٹ ارکان کو موقف ہے کہ صدر اوباما کو اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے اور اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آیا افغانستان میں مزید دستے بھیجنے سے وہاں کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں نوّے منٹ تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں نائب امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سےطالبان کے خلاف جنگ کو صرف ہوائی حملوں تک محدود کئے جانے تجویز بھی زیر غور آئی۔

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا:’’میٹنگ میں افغانستان کے سلامتی اور حکومتی مسائل سے لے کر وہاں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ڈپلومیسی سے متعلق مسائل بھی زیر بحث آئے۔‘‘ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق صدر اوباما نے اس اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ آئندہ دنوں میں افغانستان کے بارے میں جو نئی اسٹریٹجی سامنے آئے گی، بہت ممکن ہے کہ اس سے بہت سارے ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن سینیٹرز سمیت امریکی عوام بھی متفق نہ ہوں۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج نے آج سے ٹھیک آٹھ سال پہلے القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس میں اب تک آٹھ سو سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل نے حالیہ دنوں میں 21 ہزار اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد وہاں فوری طور پر مزید دستے بھیجنے کی درخواست کی تھی، جس پر واشنگٹن انتظامیہ غور کر رہی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں رائے عامہ کے جائزوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر امریکی عوام مزید دستے بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اسی لئے افغانستان سے متعلق نئی اسٹریٹجی، وہاں پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ صدر اوباما آئندہ دنوں میں اس نئی اسٹریٹجی کا اعلان کرنے والے ہیں۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: امجد علی