1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’افغان جنگ کو روکنا ہو گا‘، ہالبروک کے آخری الفاظ

افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصی امریکی مندوب رچرڈ ہالبروک کا انتقال وقت کے ایسے موڑ پر ہوا ہے جب واشنگٹن انتظامیہ اس پیچیدہ ہوتی ہوئی جنگ کے از سر نو جائزے میں مصروف ہے۔

default

رچرڈ ہالبروک اور افغان صدر حامد کرزئی

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اپنی زندگی کے آخری لمحات میں رچرڈ ہالبروک نے ٹوٹے ہوئے الفاظ کے ساتھ اپنے معالج سے کہا، ’’ افغانستان میں جنگ کو روکنا ہوگا‘‘۔ 69 سالہ ہالبروک کا شمار تجربہ کار ترین امریکی سفارتکاروں میں ہوتا تھا۔ اوباما انتظامیہ نے 22 جنوری 2009ء کو افغانستان اور پاکستان سے متعلق ذمہ داریاں ان کے حوالے کی تھیں۔ اپنے انتقال تک وہ اسی اہم عُہدے پر فائز رہے۔ اس دوران ہالبروک کابل اور اسلام آباد کو مسلسل القاعدہ و طالبان کے خطرے سے مشترکہ طورپر نمٹنے کے لئے تیار کرتے رہے۔

ہالبروک کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جنگ زدہ افغانستان میں معیشت کی بحالی کے لئے انہوں نے شہری اداروں کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی فوجی جنرل سٹین لے مک کرسٹل اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے وہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار امریکی ماہرین افغانستان لائے۔

افغان جنگ کے سابق کمانڈر جنرل مک کرسٹل اور ہالبروک کے اختلاف کی خبریں بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنی رہیں۔ ایک موقع پر جب انہیں افغانستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت کے لئے بھی نمائندہ مقرر کرنے کی بات کی جارہی تھی تو بھارتی سیاست دانوں نے واضح انداز میں اعتراضات اٹھائے تھے۔

Yousuf Raza Gilani und Richard Holbrooke

رچرڈ ہالبروک کی پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کا منظر

افغان جنگ کے حالیہ از سر نو جائزے میں کسی بڑی تبدیلی کے امکانات کم بتائے جارہے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق اگرچہ کابل حکومت میں بدعنوانی اور اسلام آباد کی جانب سے بعض طالبان کے خلاف کارروائی سے اجتناب بڑے مسائل ہیں تاہم مجموعی طور پر مثبت پیشرفت دیکھی جارہی ہے۔

سفارتی کاموں کے لئے رچرڈ ہالبروک انسانی خدمت کے کام بھی کرتے رہے۔ پاکستان میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب میں وہ متاثرین کی بحالی کی کوششوں میں بسا اوقات مصروف دکھائی دئے۔ پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے ہالبروک کے انتقال پر افسوس کا اظہارکیا ہے۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ ہالبروک کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کا عزم قائم رکھا جائے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے ہالبروک کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

رچرڈ ہالبروک جمعہ کو امریکی دفتر خارجہ میں تھے کہ ان کی طبعیت بگڑگئی، وہاں سے انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا 21 گھنٹے طویل آپریشن ہوا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت کشور مصطفیٰ

DW.COM