1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ کا اختتامی مرحلہ، امریکی نظریں پاکستانی سرحد پر

افغانستان میں امریکہ کی سربراہی میں فوجی مشن کا محور جنوبی افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں کی بجائے افغانستان کے ساتھ پاکستانی سرحد بنتی جا رہی ہے۔

default

خبرایجنسی اے ایف پی نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ پاکستان کے ساتھ افغان سرحدی علاقہ وہ جگہ ہے، جہاں ممکنہ طور پرغیر ملکی دستے دو ہزار چودہ تک اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ افغانستان میں نیٹو کی فوجوں کو یہ ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے کہ انہیں اس ملک میں اپنا جنگی مشن تین سال کے اندر اندر ختم کرنا ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ افغانستان کے جنوبی صوبوں قندھار اور ہلمند میں اتحادی فوجوں نے طالبان باغیوں کے خلاف جو بڑے آپریشن کیے ہیں، اس کے نتیجے میں اس جنگ کا رخ بدل گیا ہے۔ فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی نے خوست سے اپنے اس تجزیے میں لکھا ہے کہ افغانستان کا مشرقی حصہ اب امریکی فوج کی نئی ترجیح بن چکا ہے۔

Superteaser NO FLASH NATO Soldaten nach Afghanistan

نیٹو کی فوجوں کو یہ ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے کہ انہیں اپنا جنگی مشن تین سال کے اندر اندر ختم کرنا ہے

فوجی حکمت عملی کے امریکی ماہراب ایسے راستے تلاش کررہے ہیں جن پر چلتے ہوئے عسکریت پسند گروپوں کی کارروائیوں کو محدود کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں خاص طور پر طالبان، القاعدہ اورالقاعدہ سے تعلق رکھنے والے حقانی نیٹ ورک کا نام لیا جاتا ہے، جن کے عسکریت پسندوں نے سرحدی علاقوں میں اپنے مرکز قائم کر رکھے ہیں۔

امریکہ اس سال موسم گرما کے اختتام تک افغانستان سے اپنے 33 ہزارفوجی واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مشرقی افغان صوبے خوست میں وہ اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ بھی کر رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکی فوجی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں دس سالہ جنگ جیتنے کے لیے اب اس لڑائی کو اپنے دشمنوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔

Afghanistan ISAF Soldaten aus Kanada im Provinz Kandahar

افغاستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے طریقہ کار پر بھی تنقید جاری ہے

خوست میں امریکی فوج کی ایک جنگی پوسٹ کے انچارج اٹھائیس سالہ کپتان ٹاپل مین کے مطابق اس علاقے میں امریکہ کے خصوصی فوجی دستے ہر ہفتے زیادہ تر راتیں اپنے دشمنوں کے ٹھکانوں کی تلاش میں گزارتے ہیں۔

اس امریکی افسر کے مطابق افغانستان کے اس علاقے میں وہ زیادہ جارحیت پسندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اس رویے کا مقصد طالبان اور القاعدہ کے باغیوں تک پہنچ کر انہیں ناکام بنانا ہے۔

اس طرح افغانستان میں اتحادی فوجوں کے زیر اثرمحفوظ علاقوں کو وسعت دینے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کی رفتار اور اس کے حجم پر بہت سے امریکی ماہرین تنقید بھی کر رہے ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ہرحال میں افغانستان میں اپنے اتنے فوجی رکھنا ہوں گے کہ زیادہ سے زیادہ کامیابی کے ساتھ ساتھ مشرقی افغانستان میں عسکری فتح کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس