1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ میں ‌کامیابی: ’دعوے غلط تھے‘

گزشتہ برس افغانستان میں شاندار فوجی کامیابی کے دعوے کرتے ہوئے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کئی مرتبہ اعداد و شمار جاری کیے تھے۔ تب اسپیشل سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں صرف تین ماہ میں 1355 طالبان کی گرفتاری کا ذکر کیا گیا تھا۔

default

بین الاقوامی خبر ایجنسی انٹر نیشنل پریس سروس کے مطابق امریکی جنرل پیٹریاس کے بقول گزشتہ برس مئی سے جولائی تک کے عرصے میں افغانستان میں ایک ہزار سے زائد طالبان کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ڈیوڈ پیٹریاس کی طرف سے اسی طرح کی شاندار کامیابی کے دعوے دوبارہ گزشتہ دسمبر میں بھی کیے گئے تھے۔ IPS نے اپنی ایک مفصل رپورٹ میں لکھا ہے کہ دسمبر میں پیٹریاس کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کے چھ ماہ کے دوران 4100 طالبان باغیوں کو گرفتار جبکہ دو ہزار کے قریب عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

آئی پی ایس نے واشنگٹن سے اپنے اس مراسلے میں لکھا ہے کہ یہ اعداد و شمار میڈیا میں نیٹو فورسز کے بہتر امیج کے لیے اہم تھے۔ ان اعداد و شمار کے ذریعے افغانستان میں ’ناکام ہوتی ہوئی امریکی فوجی پالیسیوں کو کامیابیوں کے طور پر پیش کیا گیا تھا‘۔

فوجی اعداد و شمار کے مطابق پکڑے جانے والے 80 فیصد طالبان کو چند دنوں کے اندر اندر دوبارہ رہا بھی کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تحقیقات کے دوران فوجی افسران کے ایک پینل کی طرف سے بگرام ایئر بیس پر قید درجنوں مبینہ طالبان کو بھی آزاد کر دیا گیا۔ اگر ملٹری اعداد و شمار کے اجراء اور جنرل پیٹریاس کے دعووں کے اوقات کو دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل پیٹریاس کو مبینہ طور پر علم تھا کہ افغانستان میں پکڑے جانے والے ہر پانچ مبینہ طالبان میں سے چار دراصل عام شہری تھے۔

Afghanistan gefesselte Hände

فوجی اعداد و شمار کے مطابق پکڑے جانے والے 80 فیصد طالبان کو چند دنوں کے اندر اندر دوبارہ رہا بھی کر دیا گیا تھا

انٹر نیشنل پریس سروس کے مطابق جنرل پیٹریاس کے دعوے سچ تھے یا جھوٹ، اس کا اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔

افغان فورسز یا نیٹو افواج جن افراد کو حراست میں لیتی ہیں، ان کی قسمت کا فیصلہ 14 دن کے اندر اندر کر لیا جاتا ہے۔ اس عرصے کے دوران زیر حراست افراد کو کسی بھی بیس کمیپ میں رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی زیر حراست شخص بے گناہ ہو تو اسے رہا کر دیا جاتا ہے ورنہ اسے لمبی حراست کے لیے صوبہ پروان میں بھیج دیا جاتا ہے۔ صوبہ پروان میں قیدیوں سے متعلقہ ملٹری حکام کی طرف سے بھی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس مئی سے جولائی تک پروان میں حراستی مرکز کے نگران امریکی فوجی یونٹ کی تحویل میں دیے جانے والے قیدیوں کی تعداد صرف 270 تھی۔ ان میں کئی مشتبہ طالبان بھی شامل تھے۔ ملٹری اعداد و شمار کے مطابق مئی سے جولائی کے درمیانی عرصے میں گرفتار کیے گئے مبینہ طالبان میں سے بے گناہ قرار دیے جانے والے بہت سے افراد کو دو ہفتوں کے اندر اندر رہا کر دیا گیا تھا۔

Frankreich USA Afghanistan General David Petraeus in Paris

انٹر نیشنل پریس سروس کے مطابق جنرل پیٹریاس کے دعوے سچ تھے یا جھوٹ، اس کا اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے

آئی پی ایس کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ اگست 2010ء میں جنرل پیٹریاس جس وقت یہ اعلان کر رہے تھے کہ 1355 طالبان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تب مبینہ طور پر وہ جانتے تھے کہ 80 فیصد گرفتار شدگان کو رہا بھی کیا جا چکا ہے۔ رواں برس بھی پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ 5500 مبینہ طالبان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ 1100 قیدیوں کو صوبہ پروان بھیج دیا گیا ہے۔ آئی پی ایس نے اپنی اس تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس پریس کانفرنس میں موجود کسی بھی صحافی نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ اعداد و شمار میں اتنا فرق کیوں ہے یا پھر یہ کہ باقی قیدی کدھر ہیں؟

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی بھی میڈیا کی ’افغان جنگ کے بارے میں کم علمی‘ سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں ایک انتہائی مقبول بلاگر کو بھی افغان جنگ سے متعلق اعداد و شمار بھیجے گئے، جن کے مطابق گزشتہ برس جون سے نومبر تک چار ہزار سے زائد افغان جنگجوؤں کو پکڑا گیا۔ لیکن صوبہ پروان میں موجود Task Force 435 کے مطابق ان چھ ماہ میں 690 قیدیوں کو ان کے پاس بھیجا گیا تھا۔ مختلف صحافیوں، جن میں بڑی تعداد امریکیوں کی ہے،کا کہنا ہے کہ افغان جنگ کے بارے میں صحیح اعداد و شمار کا حصول انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM