1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ میں پیش رفت ’ناہموار‘ ہے، پینٹاگون

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چار سال کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں چار گُنا اضافہ ہو چکا ہے، جو اب انتہائی درجے کو پہنچ چکی ہیں۔ پینٹاگون نے یہ بات امریکی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں کہی ہے۔

default

اس رپورٹ میں پینٹاگون نے کہا ہے کہ طالبان کی انتہا پسندی کے خلاف پیش رفت ’ناہموار‘ رہی جبکہ درمیانے درجے کے فوائد حاصل کئے جا سکے ہیں۔ ساتھ ہی سکیورٹی، نظم و نسق اور ترقیاتی شعبوں میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ محکمہ دفاع نے یہ کہتے ہوئے خبردار بھی کیا ہے کہ نیٹو کی جانب سے جنگی دستوں کے انخلاء کے تصور کا طالبان ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

کینیڈا آئندہ برس افغانستان سے اپنی افواج کو واپس بلانے والا ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما بھی کہہ چکے ہیں کہ وہاں سے امریکی فوجیوں کا انخلاء آئندہ برس جولائی سے شروع ہو جائے گا، اس کے ساتھ ہی وہاں سکیورٹی ذمہ داریاں مقامی فورسز کو منتقل کرنا شروع کر دی جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی طاقت افغان عوام کے اس تصور میں ہے کہ اتحادی افواج جلد افغانستان چھوڑ دیں گے۔ یہی خیال طالبان کی فتح کو یقینی ظاہر کرتا ہے۔

پینٹا گون کی اس رپورٹ میں رواں برس یکم اپریل سے 30 ستمبر تک کے عرصے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کا تعلق افغانستان میں اتحادی فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے رواں برس ہی وہاں مزید فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

Pentagon Logo

پینٹاگون نے یہ رپورٹ امریکی کانگریس کو پیش کی

رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’پاکستان اور ایران میں انتہاپسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے اور ان کے اتحادیوں کی استعداد میں کمی کے لیے کوششوں کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔’

رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں کو پائیدار لاجسٹک معاونت، کمانڈ اورکنٹرول حاصل ہے۔ تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہلمند اور قندھار میں نیٹو کی حکمت عملی سے خاطر خواہ فوائد حاصل ہوئے ہیں اور سکیورٹی صورتِ حال دھیرے دھیرے بہتر ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان مقبول تحریک نہیں، لیکن اس کے عسکریت پسند ناقص نظم و نسق کی وجہ سے عوام کا غلط استعمال کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

اس وقت افغانستان میں امریکہ کے تقریباﹰ 97 ہزار جبکہ دیگر اتحادی ممالک کے 48 ہزار 800 فوجی تعینات ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس