1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ میں شدت آئے گی، جنرل پیٹریاس

افغانستان متعین غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ مستقبل میں افغان جنگ میں شدت آئے گی اور یہ جنگ سست روی سے لڑی جائے گی۔

default

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

اپنے ایک تازہ انٹرویو میں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ ماضی میں افغان جنگ میں وسائل کی کمی درپیش رہی ہے۔

منگل کو ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ نو سال سے جاری افغان جنگ میں گزشتہ سال تک امریکہ اور مغربی دفاعی اتحاد کو انتظامی مسائل کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ سے متعلق صدر اوباما کی نئی حکمت عملی کے سامنے آنے کے بعد کئی مسائل حل ہو گئے ہیں۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ افغانستان میں اضافی غیر ملکی فوجی دستوں کی تعیناتی کے بعد آئندہ سال اگست تک افغان مشن پایہء تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ ہو گا کہ ان کے پاس وہ تمام مطلوبہ وسائل ہوں گے، جن کے ساتھ افغان حکومت کی مدد سے طالبان باغیوں کے خلاف مؤثر طریقے سے نبرد آزما ہوا جا سکے گا۔

Friedens-Dschirga in Kabul Afghanistan

امریکی حکام کے مطابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت ایک اہم مرحلہ ہے

افغان جنگ سے وابستہ عوامی ناپسندیدگی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل پیٹریاس نے کہا کہ لوگوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔ افغان جنگ کے دوران غیر ملکی افواج کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بالخصوص امریکہ اور مغربی یورپ میں عوامی تحفظات میں شدت آتی جا رہی ہے۔ افغان جنگ کے کمانڈر نے کہا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ عوام اس جنگ میں فوری پیش رفت دیکھنے کے لئے بے قرار ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرح کے سخت معرکوں میں پیش رفت سست رفتار ہی ہوتی ہے۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس جولائی سن 2011ء تک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر محتاط رائے رکھتے ہیں۔ ان کے بقول امریکی صدر کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن ایک عمل ہے اور اس وقت کے حالات و واقعات کے پیش نظر ہی اس ڈیڈ لائن پر عمل کیا جائےگا۔ اپنے اس انٹرویو میں انہوں نے اپنی سوچ کو دہرایا کہ ایسا نہیں کہ آئندہ سال امریکی افواج یکدم اور ایک ہی مر‍حلے میں افغانستان کو خیر باد کہہ دیں گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM