1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ میں امریکی فوج کے لیے اگست خونی مہینہ

گزشتہ ماہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کی مختلف کارروائیوں میں پانچ درجن سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں شینوک ہیلی کاپیٹر کی تباہی میں ہوئیں تھیں۔

default

امریکی دستہ

 افغانستان میں جاری جنگ کے دس سال مکمل ہونے والے ہیں۔ اس تمام عرصے کے دوران اگست کا مہینہ امریکی فوج کے لیے بہت خون ریز ثابت ہوا ہے جس میں69 فوجی ہلاک ہوئے۔ مشرقی افغانستان میں باغیوں کی طرف سے کیے گئے حملے میں شینوک ہیلی کاپیڑ کی تباہی میں 30 فوجی ہلاک ہوئے۔ ان میں امریکی بحریہ کے کمانڈوز بھی شامل تھے۔

بدھ کے روز امریکی دفاعی محکمہ پینٹاگون کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق پچھلے سال جولائی میں 65 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ باغیوں نے اپنی پرتشدد کارروائیوں کے دوران دیسی ساخت کے بموں کا استعمال بہت زیادہ کیا۔ ان کے پھٹنے سے امریکی اور دوسرے غیر ملکی فوجی جاں بحق ہوئے۔ نیٹو کے افغانستان میں متعین ایساف کے دستے تمام تر کوششوں کے باوجود ان دھماکہ خیز حملوں سے نہیں بچ سکے۔

ہر گزرتے سال کے ساتھ افغانستان میں ایساف میں شامل امریکی اور دوسرے ملکوں کے فوجیوں کی موجودگی کے باوجود عسکریت پسندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

USA Verteidigungsministerium Pentagon in Washington DC Gebäude

پینٹاگون کے مطابق پچھلے سال جولائی میں 65 فوجی ہلاک ہوئے

 اس سال دس ہزار امریکی فوجی افغانستان چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور 2014ء تک انخلاء کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے اس سال جون میں اعلان کیا تھا کہ 23 ہزار امریکی فوجی اگلے سال موسم گرما تک افغانستان سے واپس طلب کر لیے جائیں گے۔

 امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ منگل کے روز افغانستان کے صوبے ہلمند کے علاقے سکمندہ  میں دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کی وجہ سے ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوا تھا۔ اعداد وشمار کے مطابق افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتیں جنگجووں کے حملوں کے علاوہ سڑک کنارے یا نصب شدہ بارودی مواد کے پھٹنے سے بھی ہوئی ہیں۔ اب تک افغانستان میں جاری جنگ میں دو ہزار 698 غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد امریکی فوجیوں کی ہے جو ایک ہزار 752 ہے۔ جب کے برطانیہ کے 380 فوجی مارے جا چکے ہیں۔

رپورٹ    سائرہ ذوالفقار

ادارت   عابد قریشی 

 

DW.COM