1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ، فوجیوں کی جسمانی معذوری کے واقعات میں اضافہ

افغانستان کی جنگ میں حکمت عملی کافی تبدیل ہو چکی ہے۔ اب وہاں مقامی دستوں کے ساتھ پیدل گشت کے لیے امریکی دستوں کو بھی بھیجا جاتا ہے۔

default

پہلے امریکی فوجی وہاں اپنی بکتر بند گاڑیوں میں گشت پر نکلتے تھے۔ لیکن پیدل گشت کے دوران ان افغان اور امریکی فوجیوں کے بم حملوں کا نشانہ بننے کے واقعات میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ ان بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے فوجی اکثر یا تو اپنے ہاتھ پاؤں سے محروم ہو جاتے ہیں یا پھر ڈاکٹروں کو ان کی جانیں بچانے کے لیے ان کے جسموں کے مختلف اعضا کاٹنا پڑ جاتے ہیں۔

منگل کو سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق فوجیوں کے اس طرح معذور ہو جانے کے واقعات سے ان کے ساتھیوں کی سوچ اور حوصلے پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اس لیے میدان جنگ میں اس طرح کی باتیں بھی زیادہ سننے میں آنے لگی ہیں کہ چند فوجیوں نے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ خفیہ وعدے بھی کر رکھے ہیں، کہ اگر کسی حملے یا مسلح جھڑپ میں کوئی فوجی شدید زخمی ہو جائے، تو اس کی جان بچانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انہیں زخمی ہونے کے بعد باقی ماندہ زندگی کسی معذور انسان کے طور پر نہ گزارنا پڑے۔

Anschlag auf Burhanuddin Rabbani

فوجی ذرائع کے مطابق افغانستان میں جن امریکی فوجیوں کے شدید زخمی ہو جانے کے بعد ڈاکٹروں کو ان کے بازو یا ٹانگیں وغیرہ کاٹنے پڑے، ان کی تعداد پچھلے چند سالوں میں ڈرامائی حد تک زیادہ ہو گئی ہے۔ سن 2009 میں یہ تعداد صرف  86 تھی جو 2010 میں 187 ہو گئی تھی۔ اس سال یہ تعداد اب تک 147 ہو چکی ہے۔

امریکی فوج کی طرف سے افغانستان کی جنگ میں انتہائی المناک حد تک زخمی اور معذور ہو جانے والے فوجیوں سے متعلق جو رپورٹ منگل کو جاری کی گئی، اس نے ہر کسی کو پریشان کر دیا ہے۔

جو امریکی فوجی سن 2009 میں اپنے جسم کے دو یا تین اعضا سے محروم ہو گئے تھے، ان کی تعداد صرف 23 رہی تھی۔ لیکن گزشتہ برس یہی تعداد 72 رہی تھی اور اس سال اب تک یہ تعداد 77 ہو چکی ہے۔ ان میں سے عراق گنگ کے دوران زخمی اور معزور ہونے والولے فوجیوں کی تعداد صرف ایک درجن کے قریب ہے۔ ایسے باقی تمام امریکی فوجی افغانستان میں فرائض انجام اپنے اعضاء سے محروم ہوئے۔

Anschlag auf Burhanuddin Rabbani

یہ رپورٹ امریکی فوج کے سرکردہ ڈاکٹروں کی طرف سے پینٹاگون میں اعلیٰ دفاعی حکام کو پیش کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ اس سال جون میں مکمل کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کی تیاری کا حکم امریکی فوج کے سرجن جنرل ایرک شومیکر نے اسی سال دیا تھا۔

اس کا مقصد امریکی فوجیوں کے انتہائی زخمی ہونے کے واقعات کی شرح میں بہت زیادہ اضافے کی وجوہات کا پتہ چلانا تھا۔ اس رپورٹ میں کی گئی سفارشات کی روشنی میں فوجیوں کے لیے میدان جنگ میں اور بعد کے عرصے میں طبی سہولیات بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ امریکی دستوں میں عمر بھر کے لیے اپاہج ہو جانے کے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: افسر اعوان

DW.COM