1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ سے متعلق انکشافات، پاکستان میں رد عمل

پاکستان نے وکی لیکس کی جانب سے افغان جنگ کے بارے میں انٹرنیٹ پر افشا کی گئی خفیہ امریکی دستاویزات کو یکطرفہ اور زمینی حقائق کے خلاف قرار دیا ہے۔

default

خفیہ دستاویزات میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل کے طالبان کے ساتھ مبینہ تعلقات کو نمایاں کیا گیا ہے

دفتر خارجہ سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق پاکستانی عوام، سکیورٹی فورسز بشمولISI نے عسکریت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں، بین الاقوامی برادری اور امریکہ اس حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہتا ہے۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشتگردی میں تعاون اور مشترکہ دشمن کے خاتمے تک پاک امریکہ تعاون جاری رہے گا۔

وکی لیکس کی جانب سے منظر عام پر لائی گئی خفیہ دستاویزات میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل کے طالبان کے ساتھ مبینہ تعلقات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے کہ یہ خفیہ دستاویزات ویسا ہی جھوٹ ہے جیسا ماضی میں عراقی صدر صدام حسین کے بارے میں بھی بولا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیںISIسے ریٹائر ہوئے 18 سال ہو گئے ہیں اور یہ رپورٹیں جس عرصے میں مرتب کی گئی ہیں اس دوران تقریباً ڈھائی سال موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی آئی ایس آئی کے سربراہ تھے ۔

حمید گل کے بقول اگر دیکھا جائے تو یہ دستاویزات جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع احمد پاشا کے خلاف ہیں۔ حمید گل نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں مبینہ طور پر ناکام ہو رہا ہے اور اسے اپنی اس شکست کے اعتراف کےلئے قربانی کا ایک بکرا چاہیے۔ وانا میں اپنی موجودگی اور طالبان سے روابط سے متعلق خود پر لگے الزامات کو جنرل ’ر‘ حمید گُل نے رد کر دیا ہے۔

NO FLASH Wikileaks Afghanistan

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وکی لیکس کی جانب سے ” افغان وار ڈائری“ کے اقتباسات شائع ہونے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان وقتی طور پر تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں

دوسری جانب تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وکی لیکس کی جانب سے ” افغان وار ڈائری“ کے اقتباسات شائع ہونے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان وقتی طور پر تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ تجزیہ نگار حسن عسکری کے مطابق:

” وقتی طور پر یہ تعلقات متاثر ضرور ہونگے کیونکہ پاکستان کے خلاف بہت سی منفی باتیں کی گئی ہیں لیکن طویل المدتی تعلقات اس لئے ختم نہیں ہونگے کیونکہ دونوں ممالک کو دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کےلئے ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کئے جائیں اور اس کی جھلک اس رپورٹ میں نظر آتی ہے“

پاکستان اور امریکہ بظاہر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں لیکن ان کے درمیان باہمی عدم اعتماد کی فضا کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور امریکی فوجی اور سول انتظامیہ کے عہدیدار افغان جنگ میں پاکستان پر اس کے دوہرے کردار کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ حسن عسکری کے مطابق پاکستان اور امریکہ کو افغانستان میں جاری جنگ جیتنے کےلئے ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا، جو شکوک و شبہات کوجنم نہ دے۔

رپورٹ : شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس