1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان جنگ ، خفیہ دستاویزات آشکار

لندن کے روزنامے 'دی گارڈین' کے مطابق فوجی تاریخ کے سب سے بڑے خفیہ دستاویزات کے 'لیک' سے نیٹو افواج کے ہاتھوں افغان شہریوں کی ہلاکت کے ایسے کئی واقعات آشکار ہوئے ہیں جو کبھی منظر عام پر نہیں آئے۔

default

اخبار کے مطابق ان خفیہ دستاویزات سے پاکستان اور ایران کی جانب سے افغانستان میں جاری عسکریت پسندی کو فروغ دینے سے متعلق نیٹو کے شکوک کا بھی پتہ چلا ہے۔

دی گارڈین کے مطابق اس کے سمیت، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور جرمن ہفت روزہ 'ڈیرشپیگل' کو ایک ویب سائٹ 'Wikileaks' کی طرف سے آن لائن جاری کرنے سے قبل مذکورہ دستاویزات تک رسائی فراہم کی گئی تھی۔ 'وکی لیکس' کی طرف سے 'افغان وار ڈائری' کے نام سے 91 ہزار رپورٹس پر مشتمل یہ خفیہ دستاویزات اتوار 25 جولائی کو آن لائن جاری کی گئیں۔

ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں یہ رپورٹس سال 2004ء سے 2010ء کے دوران مختلف فوجیوں اور انٹیلی جنس افسران کی جانب سے تحریر کی گئیں، اور یہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے خطرناک فوجی آپریشنز سے متعلق ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق ان رپورٹس میں خفیہ معلومات کے علاوہ سیاسی شخصیات کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔

خیال کیا جارہا ہے کہ یہ خفیہ دستاویزات ایک فوجی تجزیہ کار کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں جسے اسی الزام کے تحت عراق میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی اہلکار نے ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر سے متعلق متنازعہ ویڈیو بھی فراہم کی تھی۔

Sicherheitsberater James Jones

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل جیمز جونز

وائٹ ہاؤس نے ان خفیہ دستاویزات کی اشاعت کی شدید مذمت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل جیمز جونز کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، " امریکہ خفیہ دستاویزات جاری کرنے والے افراد اور اداروں کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ان دستاویزات کی اشاعت سے امریکی شہریوں اور امریکہ کے دوستوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور یہ اقدام ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔"

جونز نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ 'وِکی لِیکس' نامی ویب سائٹ نے ان دستاویزات کی صحت کے حوالے سے امریکی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا اورحکومت کو اخبارات کے ذریعے ان کی اشاعت کی اطلاع ملی۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس