1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’افغان جنگ حساس مرحلے میں داخل‘

افغانستان میں متعین غیر ملکی افواج کے نئے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اتوار کے روز اپنے عہدے کی ذمہ داریاں باضابطہ طور پر سنبھال لی ہیں۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغان جنگ ایک اہم موڑ پر ہے۔

default

کمان کی تبدیلی کی یہ تقریب افغان دارالحکومت کابل میں آئی سیف دستوں کے ہیڈکوارٹرز میں ہوئی۔ اس تقریب سے خطاب میں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ گزشتہ نو برس سے لڑی جانے والی یہ جنگ اب حساس ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

پیٹریاس افغانستان میں متعین تقریبا ڈیڑھ لاکھ امریکی اور اتحادی فوج کی قیادت کریں گے۔ پیٹریاس نے کمان کی تبدیلی کی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا : ’’ہم سب طالبان، القاعدہ اور ان سے جڑے دیگر انتہا پسندوں کی وجہ سے اس ملک، اس خطے اور پوری دنیا کو لاحق خطرات سے بخوبی واقف ہیں۔‘‘

USA Afghanistan General David Petraeus vor Senatskomitee in Washington

جنرل پیٹریاس نے آج باقاعدہ طور پر یہ نئی ذمہ داری سنبھال لی ہے

پیٹریاس کو گزشتہ ہفتے افغانستان میں غیر ملکی افواج کی قیادت سونپی گئی تھی۔ افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے سابق سربراہ جنرل سٹینلے میک کرسٹل کی طرف سے ایک جریدے کو دئے گئے انٹرویو میں امریکی سویلین قیادت اور اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف توہین آمیز الفاظ کے استعمال کے بعد انہیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

افغانستان میں کمان کی تبدیلی ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے، جب طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی آ چکی ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتے عسکریت پسندوں کی طرف سے شمالی قندوز میں تعمیری سرگرمیوں میں مصروف ایک امریکی ٹھیکیدار پر کئے گئے خودکش حملے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

McChrystal / USA / Militär

جنرل میک کرسٹل کو چند روز قبل ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا

پیٹریاس اس تقریب سے خطاب میں اپنے مکمل فوجی یونیفارم میں تھے۔ انہوں نے افغان جنگ میں ہلاک ہونے والے آئی سیف فوجیوں کی یادگار کے قریب خطاب کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ فوجی قیادت میں تبدیلی کو افغان پالیسی میں تبدیلی ہر گز نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور قیام امن کے لئے فوجی اور سویلین دونوں شعبوں میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز اور غیر ملکی فوجیوں کے ساتھ ساتھ سویلین شعبے مل کر قیام امن کے عمل کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’’ہم سب یہاں ایک مشترکہ مقصد کے لئے موجود ہیں۔ وہ یہ ہے کہ ہمیں افغان عوام اور طالبان دونوں کو یہ باور کرانا ہے کہ ہم افغان عوام کی حفاظت کے لئے یہاں متعین ہے، اور ہم یہ جنگ جیت کر رہیں گے۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔‘‘

جنرل پیٹریاس یہ نیا عہدہ سنبھالنے کے بعد جمعے کے روز کابل پہنچے تھے۔ گزشتہ روز انہوں نے افغان اور غیر ملکی افواج کے اہم کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ ہفتے کے روز انہوں نے کابل میں قائم امریکی سفارت خانے کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں بھی شرکت کی، جبکہ بعد ازاں انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات بھی کی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM