1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’افغان تنازعے کے پر امن حل کا یہی وقت ہے‘

سابق سفارتکاروں کے ایک بین الاقوامی دستے نے امریکی انتظامیہ اور کابل حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اب مذاکرات کے ذریعے افغان تنازعے کے حل کے لیے کوششیں تیز تر کردیں۔

default

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے سابق خصوصی مندوب لخدر براہیمی اور امریکی دفتر خارجہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار تھوماس پیکرنگ کا کہنا ہے کہ امریکہ طاقت کے ذریعے اس تنازعے کا حل تلاش کر رہا ہے حالانکہ موجودہ وقت مصالحتی عمل کے لیے انتہائی مناسب ہے۔

غیر سرکاری تنظیم سینچری فاؤنڈیشن کے تحت Afghanistan: Negoatiating Peace کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے ، جس میں تین شخصیات کو افغان امن عمل کے لیے معاون تجویز کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان، لخدر براہیمی اور سویڈش سفارتکار سٹیفن ڈی مستورا کے نام لیے جارہے ہیں۔ یہ مجوزہ معاون شخصیات افغان اور غیر ملکیوں کے مابین مذاکرات کی نگرانی کریں گی۔

Friedens-Dschirga in Kabul Afghanistan Hamid Karzai Flash-Galerie

افغان صدر امن عمل سے متعلق ایک کانفرنس کے موقع پر، فائل فوٹو

سٹیفن ڈی مستورا کے متعلق بتایا جارہا ہے کہ وہ پہلے ہی افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے امن عمل کی شروعات کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے افغانستان کے پڑوسی ممالک و امریکہ کے سفیروں اور اس تنازعے کے بعض دیگر فریقوں کے مابین کابل میں متعدد ملاقاتیں منعقد کروائی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپے مضمون میں لخدر براہیمی اور تھوماس پیکرنگ نے لکھا ہے، ’ ہمیں یقین ہے کہ موجودہ وقت مصالحتی عمل شروع کرنے لیے موضوع ترین ہے، جبکہ امریکی فوج کی تعداد اپنے عروج پر ہے۔‘ ان کا یہ موقف افغانستان پر امریکی حملے کے لگ بھگ دس سال بعد سامنے آیا ہے۔

سینچری فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر تھوماس پیکرنگ نے کہا کہ اگرچہ حالیہ عرصے میں اتحادی افواج کو کامیابیاں مل رہی ہیں مگر مجموعی طور پر یہ جنگ جمود کا شکار ہے۔ عرب دنیا میں شورش کی نئی لہر کے سبب بھی امریکی حکومت بظاہر افغانستان کی جنگ کے فوری حل کی متلاشی دکھائی دیتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ افغانستان میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سویلین سرگرمیوں میں بھی تیزی لائی جائے گی اور اس جنگ زدہ ریاست کی معیشت کو استوار کیا جائے گا، ’ ہمیں اور افغانوں کو یقین ہے کہ فوجی و سویلین کوششوں سے جو سلامتی اور حکومتی عملداری حاصل ہوئی ہے اس سے اچھا موقع پیدا ہوا ہے کہ مصالحتی عمل کے بارے میں سنجیدہ ہوا جائے۔‘

Deutschland Petersberg Konferenz Brahimi, Karsai und Schröder

سابق جرمن چانسلر شروئڈر، افغان صدر حامد کرزئی اور لخدر براہیمی، فائل فوٹو

ان کے بقول یہ مصالحتی عمل افغان حکومت کی نگرانی میں ہوگا، جسے خطے کے ممالک میں سرگرم سفارتکاری اور امریکی تعاون کا سہارا حاصل رہے گا۔

اس تنازعے کے حل میں ظاہری طور پر بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ طالبان کی جانب سے مکمل طور پر غیر مسلح ہوکر 2004ء کے آئین کے تحت سیاست کرنے کا اعلان نہیں کیا جارہا جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان کے مطالبے پر فوری طور پر افغانستان سے انخلاء نہیں چاہتے۔ سینچری فاؤنڈیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کرنے میں جتنی دیر کی جائے گی آخر میں قیام امن کی اتنی ہی بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت عاطف بلوچ