1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغان تارکین وطن کی ایک اور کھیپ عنقریب جرمنی بدر کی جائے گی

جرمنی ایک بار پھر ایسے افغان تارکینِ وطن کو ملک بدر کر رہا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان تارکین وطن کو ستائیس مارچ کے روز ایک خصوصی پرواز کے ذریعے واپس افغانستان بھیجا جائے گا۔

[No title] (Ehsan Hadid)

اس برس اب تک جرمنی سے قریب بارہ ہزار افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جانا ہے

ستائیس مارچ کوجرمنی سے افغان مہاجرین کو لے جانے والا  خصوصی جہاز اگلے روز صبح کے وقت افغانستان کے دارالحکومت کابل پنہچے گا۔ جرمنی سے مزید افغان باشندوں کی ملک بدری کی تصدیق کابل میں مہاجرت کی وزارت کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے کی ہے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ تارکینِ وطن کا جہاز کابل میں کس جگہ لینڈ کرے گا۔

جرمنی بدر کیے جانے والے افغان شہریوں کی تعداد کے بارے میں بھی ابھی تک کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ عام طور پر جرمن حکام تارکین وطن کی تعداد کے بارے میں افغان حکام کو ملک بدری کے روز ہی مطلع کرتے ہیں۔

 گزشتہ سال دسمبر سے لے کر اب تک جرمنی سے یہ افغان پناہ گزینوں کی مجموعی طور پر چوتھی اجتماعی ملک بدری ہے۔ اب تک قریب 77 تارکینِ وطن کو واپس افغانستان بھیجا گیا ہے جن میں زیادہ تعداد نوجوان مردوں کی ہے۔

آئندہ ماہ اپریل تک جرمنی بدر کیے جانے والے افغان باشندوں کی حد  فی پرواز  50 مقرر ہے۔ تاہم اب تک جرمنی سے واپس بھیجے جانے والے افغان تارکینِ وطن کی تعداد ہر پرواز میں اس سے کم ہی رہی ہے۔

اس برس اب تک جرمنی سے قریب بارہ ہزار افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جانا ہے۔ تاہم افغان باشندوں کو واپس بھیجے جانے کے حوالے سے جرمنی میں کافی اختلاف بھی پایا جاتا ہے کیونکہ جنگ سے تباہ حال یہ ملک اب بھی طالبان سے بر سرِ پیکار ہے اور ملک بھر میں بم حملے آئے دن کا معمول ہیں۔

DW.COM