1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان تاجک سرحد پر عسکریت پسندوں کے ساتھ خونریز تصادم

وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان میں حکام نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر عسکریت پسندوں کے ساتھ ہونے والی ایک خونریز جھڑپ میں ایک سرحدی محافظ سمیت کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

تاجک افغان بارڈر پر کھڑے محافظ، فائل فوٹو

دوشنبہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق تاجکستان کے سرحدی امور سے متعلقہ قومی دفتر کے ترجمان خوشنود رحمت اللہ ائیف نے آج پیر کے روز بتایا کہ ویک اینڈ پر قریب ایک درجن مسلح عسکریت پسندوں نے بلا اجازت بین الاقوامی سرحد عبور کر کے زبردستی تاجکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

Tadschikistan Afghanistan Grenze

افغانستان اور تاجکستان کے درمیان سرحد پر امریکی مالی مدد سے تعمیر کیا جانے والا ایک نیا پل

ترجمان کے بقول یہ واقعہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات پیش آیا اور مجموعی طور پر یہ اس سال کے دوران افغانستان سے آنے والے جنگجو افراد کی تاجکستان میں زبردستی داخلے کی چھٹی کوشش تھی۔ اس دوران تاجک بارڈر گارڈز کے ساتھ ان قریب ایک درجن انتہا پسندوں کی خونریز لڑائی میں ایک سرحدی محافظ کے علاوہ کم از کم ایک عسکریت پسند بھی مارا گیا۔

غیر قانونی طور پر افغان تاجک سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے باقی شدت پسندوں کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ فرار ہو گئے یا گرفتار کر لیے گئے۔

Arbeitsmarkt in Duschanbe

دوشنبہ میں روزگار کے دفتر کے سامنے جمع کام کاج کے متلاشی کارکنوں کا ہجوم، فائل فوٹو

تاجکستان میں ملکی فوج کے اعلیٰ ترین اہلکاروں نے یہ تنبیہ پہلے ہی کر دی تھی کہ افغانستان میں اتحادی فوجی دستوں کی کارروائیوں سے بچ کر نکلنے کی کوششیں کرنے والے انتہاپسند سرحد پار کر کے ہمسایہ ملکوں میں بھی بدامنی پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان کو بھی اپنے ہاں شدت پسند باغیوں کا سامنا ہے اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وہاں حکومت کو دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں کئی بڑی کامیابیاں بھی ملی ہیں۔

اسی مہینے کے اوائل میں تاجکستان میں سرکاری دستوں نے ملک کے مشرق میں وادیء رشت میں ایک بڑی کارروائی کے دوران ایک سرکردہ اسلام پسند باغی رہنما عبداللہ رحیموف کو اس کے چودہ جنگجو ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا تھا۔ رحیموف تاجک حکام کو کافی عرصے سے مطلوب تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM