1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان انتخابات کے لئے حالات پیچیدہ ہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے مندوب برائے افغان امور کائی آیڈے نے افغانستان میں اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے لئے ماحول کو پیچیدہ قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بیان گذشتہ ایک ہفتے کے دوران الیکشن افسروں پر تین حملوں کے بعد سامنے آیا۔

default

افغانستان میں صدارتی امیدواروں کی انتخابی مہم اپنے زوروں پر ہے

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کائی آیڈے نےصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا : ’’آئندہ انتخابات اب تک کے سب سے مشکل انتخابات ہیں۔‘‘ آیڈے نے کابل میں انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے مزید کہا کہ افغانستان انتشار کا شکار ہے اور اس کے تمام علاقوں تک رسائی بہت مشکل ہے اور اسی وجہ سے یہاں فوجی آپریشن کرنا دشوار ہے۔

20 اگست کے انتخابات سے قبل عسکریت پسندوں کے حملوں میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان حملوں کے نتیجے میں اتحادی افواج کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی شرح بھی بڑھتی جارہی ہے۔ برطانوں وزیر برائے بیرونی امداد ڈگلس الیکسزینڈر نے اس حوالے کہا : ’’ہلاک ہونے والے برطانوی فوجی افغانستان میں ایک ایسی حکومت کو یقینی بنا گئے ہیں جو کہ نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کرسکتی ہے بلکہ لوگوں کو جوابدہ بھی ہے۔‘‘

Marder Schützenpanzer in Afghanistan

عسکریت ہپسندوں کے خلاف ہلمند میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا گیا

برطانوی فوج نے اگست میں ہونے والے افغان صدارتی انتخابات میں امن و امان کی صورتحال بنائے رکھنے کے لئے حال ہی میں ہلمند میں پانچ ہفتوں تک پینتھر کلاز نامی فوجی آپریشن کیا تھا۔ اس آپریشن میں 3000 برطانوی فوجیوں کے علاوہ دیگر اتحادی ملکوں کی افواج نے بھی حصہ لیا تھا۔ افغانستان میں برطانوی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر ٹم ریڈفورڈ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس آپریشن کی بدولت ہلمند کے 80 ہزار ووٹر الیکشن میں ووٹ ڈال سکیں گے۔

افغانستان میں شفاف الیکشن کے انعقاد کے لئے یورپی یونین نے 100مبصرین کو بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ افغانستان میں امن کے قیام کے لئے امریکہ اور اس کے41 اتحادی ملکوں کےایک لاکھ ایک ہزار فوجی عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔

اگرچہ گذشتہ روز افغان حکومت نے دعوی کیا ہے کہ مغربی صوبہ بادغیس میں طالبان عسکریت پسندوں نے جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے مگر پچھلے چند دنوں میں الیکشن کمیشن کے تین افسران پر حملوں کی وجہ سے مغربی دنیا افغانستان میں داخلی سلامتی کی صورتحال اور انتخابات کا پر امن انعقاد کے لئے فکرمند ہے۔

اگست انتخابات میں موجودہ صدرحامد کرزئی سمیت 40 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ افغانستان میں17 ملین ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ ان کی سہولت کے لئے 34 صوبوں میں 28 ہزار ہانچ سو پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔

رپورٹ : میراجمال

ادارت : عدنان اسحاق