1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان انتخابات: کرزئی کو 40 فیصد، عبداللہ کو 39 فیصد ووٹ ملے

الیکشن کمیشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق حامد کرزئی کو چالیس فی صد جبکہ عبداللہ عبداللہ کو انتالیس فی صد ووٹ ملے ہیں۔

default

صدارتی انتخابات میں افغاں شہریوں نے بھر پور حصہ لیا

افغان الیکشن کمیشن نے کل منگل کے روز صدارتی انتخابات کے جزوی نتائج کا اعلان کر دیا۔دوسری جانب کل ہی جنوبی افغانستان کے شہر قندھار میں ایک بم دھماکہ بھی ہوا۔ ماہرین کے خیال میں اس دھماکے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ شاید عسکریت پسند اس انتظار میں تھے کہ کب نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے۔ افغان الیکشن کمیشن کے مطابق موجودہ صدر حامد کرزئی کو اپنے سخت ترین حریف سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ پر معمولی سی برتری حاصل ہے۔

افغانستان میں بیس اگست کو صدارتی انتخابات کی پولنگ ختم ہونے کے ساتھ ہی حامد کرزئی نے اپنی کامیابی کے دعوے کئے جبکہ مضبوط حریف اُمیدوار عبداللہ عبداللہ نے انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے۔ الیکشن کمیشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق حامد کرزئی کو چالیس فی صد جبکہ عبداللہ عبداللہ کو انتالیس فی صد ووٹ ملے ہیں۔ اس موقع پر عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ انتخابی عمل کے غیر شفاف اور جانبدار ہونے کے حوالے سے شکایات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو انتخابات کے دوران اُن کی طرف سے عائد کئے گئے دھاندلی کے الزامات کی تصدیق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریاست نے اپنے اختیارات کا استعمال کر کے انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کیں لیکن وہ اس فراڈ کو انتخابی نتائج پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔

Flash-Galerie Wahlen Afghanistan

افغان صدارتی امیدوار حامد کرزئی

الیکشن کے اب تک صرف دس فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی ہے۔ افغان الیکشن کمیشن کے سربراہ داؤد النجفی نے کہا کہ مزید نتائج کا اعلان وقت کے ساتھ ساتھ کیا جاتا رہے گا۔ النجفی نے بتایا کہ ابتدائی نتائج کا اعلان تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر حامد کرزئی کو دو لاکھ بارہ ہزار کے قریب جبکہ عبداللہ عبداللہ کو دو لاکھ دو ہزار ووٹ ملے ہیں۔

یہ نتائج ان دعووں کےبالکل برعکس ہیں جو انتخابات سے قبل کرزئی کابینہ کے ایک وزیر نے کئے تھے۔ انہوں نےکہا تھا کہ حامد کرزئی بآسانی 70 فی صد کے قریب ووٹ حاصل کر لیں گے۔ جرمنی میں افغان امور کے ماہر تھومس رُٹِنگ کے خیال میں اس موقع پر ابتدائی نتائج کا اعلان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ رُٹِنگ کے مطابق ان دس فیصد سے یہ اندازہ تو نہیں لگایا جا سکتا کہ انتخابات میں کامیاب کون ہوگا لیکن ایسا لگتا ہے کہ گنتی بہت متوازن طریقے سے کی گئی ہے تاکہ کسی کو زیادہ تکلیف نہ پہنچے۔

Dr Abdullah Abdullah

افغان اپوزیشن صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نےانتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا

ابھی بھی افغانستان کے 34 میں سے 21 صوبوں میں ووٹوں کی گنتی باقی ہے، جن میں جنوبی افغان صوبوں ہلمند ، خوست اور قندھار کوخاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ افغان الیکشن کمیشن کے مطابق قندھار میں گزشتہ روز ہوئے بم دھماکے کےبعد ووٹوں کی گنتی میں دیر ہو سکتی ہے۔ اس بم دھماکے میں چالیس سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً پینسٹھ زخمی ہوئے۔ ایک سرکاری ترجمان کے مطابق یہ حملہ خفیہ ادارے کے دفتر اور ایک تعمیراتی کمپنی کی عمارت کے قریب پیش آیا۔ انتخابات کے بعد ہونے والے یہ پہلا جبکہ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران ہونے ولا شدید ترین بم دھماکہ تھا۔ الیکشن کمیشن نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہےکہ ان واقعات کے باوجود افغان عوام کو ستمبر کے اوائل میں یہ بتا دیا جائے گا کہ ان کا مستقبل کا صدر کون ہوگا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی