1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان انتخابات میں کرزئی کی برتری واضح

افغانستان کے الیکشن کمیشن نے منگل کے روز مزید جزوی نتائج کا اعلان کیا ہے۔ اب تک کے نتائج کے مطابق صدر حامد کرزئی کو ان انتخابات میں پچاس فیصد سے زائد ووٹ ملے ہیں۔

default

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے ان نتائج کے ساتھ ہی صدر حامد کرزئی کو حالیہ انتخابات میں واضح برتری حاصل ہو گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک کے نتائج کے حساب سے حامد کرزئی کو نوے فیصد پولنگ سٹیشنوں سے اکاون اعشاریہ ایک فیصد ووٹ ملے۔ دوسری جانب افغانستان کے الیکشن کمیشن برائے شکایات نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے واضح شواہدموجود ہیں۔

حامد کرزئی کی واضح برتری کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے قبل امریکہ اور اقوام متحدہ نے افغان حکومت پر اپنے دباؤ میں اضافہ کر دیا تھا تا کہ کابل انتظامیہ حالیہ انتخابات کے حوالے سے افغان الیکشن کمیشن کی تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہ کرے۔

ایک مغربی سفارتی وفد نے افغان صدر حامد کرزئی سے پیر کی رات ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سفارتی وفد نے افغان صدر پر زور دیا کہ وہ حکومتی اداروں کو ملکی صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات اور بے ضابطگیوں کی شکایات پر الیکشن کمیشن کی تفتیش سے دور رکھیں۔

جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی وفد نے افغان صدر سے ملاقات میں واضح طور پر یہ عندیہ دیا کہ کرزئی افغانستان کے غیر جانبدار الیکشن کمیشن کی تحقیقات پر کسی طرح سے بھی اثرانداز ہونے کی کوشش نہ کریں۔

Wahl 2005 in Afghanistan: Polizist sitzt vor Wahlplakat

افغان صدارتی انتخابات میں بے قاعدگیوں کی شکایات بھی موصول ہوئیں

مختلف صدارتی امیدواروں کی جانب سے رواں برس بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی درجنوں شکایات درج کراوائی گئی تھیں۔ شکایات کنندگان میں ایک اہم صدارتی امیدوار اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ بھی شامل ہیں۔

عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے سمیت درجنوں علاقوں میں حکومتی اہلکاروں کی جانب سے حامد کرزئی کو کامیاب کرانے کے لئے جعلی ووٹ ڈالے گئے۔ عبداللہ عبداللہ نے انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کی شکایات بھی درج کراوئی تھیں۔ انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کی شکایات نے نتائج کے حوالے سے مغربی ممالک کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این نے بھی وزارت خارجہ کے حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کابل میں متعین امریکی سفیر کارل ایکن بیری اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے حامد کرزئی سے اپنی ملاقات میں مطالبہ کیا کہ وہ الیکشن کمیشن کو انتخابی بے قاعدگیوں کی ان شکایات کہ کھل کر تفتیش کرنے دیں۔ تحقیقات کے بعد الیکشن کمیشن یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا انتخابات کے دوسرے دور کی ضرورت ہے یا نہیں۔

افغان دستور کے مطابق الیکشن میں اگر کوئی صدارتی امیدوار پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے تو اسے انتخابات کے دوسرے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جس میں اس کا براہ راست مقابلہ اس کے سب سے بڑے حریف سے ہوتا ہے تاہم اگر حامد کرزئی کی کامیابی کا یہی تناسب حتمی قرار پاتا ہے تو پھر انتخابت کے کسی دوسری مرحلے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

Abdullah Abdullah

کرزئی کے سب سے بڑے حریف عبداللہ عبداللہ

سی این این نے امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کا حوالہ دےکر بتایا کہ اس سفارتی وفد کی کرزئی سے ملاقات کا مقصد کمیشن کی آزادانہ تفیتش کو یقینی بنانا تھا۔ اتوار کے روز عبداللہ عبداللہ کے ترجمان نے الیکشن کمیشن پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ افغان صدر کرزئی کی حمایت کر رہا ہے۔

دوسری جانب آج افغان دارالحکومت کابل میں ایک ملٹری ایئر بیس پر کئے گئے خودکش کار بم حملے میں کم از کم تین عام شہری ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حملے میں تقریبا پانچ سو کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے بعد یہ اس شدت کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ طالبان عسکریت پسندوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: انعام حسن