1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان انتخابات سے متعلق عبداللہ عبداللہ کا فیصلہ

افغانستان میں صدارتی اُمیدوار ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ کا عندیہ دیا ہے۔ اس حوالےسے وہ حتمی فیصلہ اتوار کو کریں گے۔ تاہم اس حوالے سے آج کا دن اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

default

افغانستان کے سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ

ڈاکٹر عبداللہ کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم کے ایک سینیئر رکن کا کہنا ہے کہ عبداللہ عبداللہ کے بعض مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو وہ انتخابی

BdT Wahlen in Afghanistan

اگست میں انتخابات کے پہلے مرحلے میں دھاندلی کے انکشافات ہوئے

عمل کا بائیکاٹ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ غیرشفاف اوردھوکہ دہی پرمبنی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

ڈاکٹر عبداللہ نے صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان الیکشن کمیشن کے اعلٰی عہدیدار اور دیگر تین وزیروں کوبرطرف کر دیں تاکہ دوبارہ دھاندلی کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم حامد کرزئی اس مطالبے کو مسترد کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عبداللہ نے کرزئی کو ہفتہ کے دن تک کی مہلت دی ہے۔

بیس اگست کو منعقد ہونے والے افغان صدارتی انتخابات میں وسیع تر دھاندلیوں کے انکشاف کے بعد ملک سیاسی بحران کی زد میں ہے۔ اس صورتحال میں طالبان نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ سات نومبر کو منعقد کئے جانے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو سبوتاژ کریں گے۔

افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کے بیچ امریکی صدر باراک اوباما اس تجویز پر غور کر رہے ہیں وہاں طالبان باغیوں کی سرکوبی کےلئے مزید ہزاروں فوجی روانہ کئے جائیں یا نہیں۔ اسی حوالے سے باراک اوباما نے جمعہ کو اعلیٰ امریکی فوجی قیادت سے ملاقات بھی کی۔

دریں اثناء سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللہ کی انتخابی مہم کے منتظم اعلیٰ نے ایک مختصر بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبداللہ نے اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے ایک جرگہ بلوایا ہے، جس میں وہ انتخابات کے حوالے سے ایک اہم تقریر میں فیصلہ سنائیں گے کہ آیا وہ دوسرے مرحلے میں حصہ لیں گے یا نہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ کے ایک قریبی ساتھی نے کہا ہے کہ اسی غیر یقینیصورتحال میں انہوں نے اپنا دورہ بھارت بھی منسوخ کیا ہے۔افغانستان میں الیکشن کے مغربی غیر جانبدار معائنہ کاروں نے تصدیق کی ہے کہ صدراتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے بعد ڈاکٹر عبداللہ نے کوئی انتخابی دفتر قائم نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہ کھلم کھلا انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

Wahlen Afghanistan 2009 Flash-Galerie

کرزئی نے ڈاکٹر عبداللہ کے مطالبے مسترد کر دیے ہیں

ملکی آئین کے مطابق یہ ممکن ہے کہ اگر ڈاکٹر عبداللہ انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو ان کے حریف حامد کرزئی تنہا ہی ان انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں جس کے نتیجے میں واحد امیدوار کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ماہرین اور مبصرین کے نزدیک اس صورتحال میں نئی حکومت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔

اس صورتحال میں طالبان نے افغان عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ دوسری صورت میں انہوں نے حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM