1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان امن مذاکرات کے نئے دور کی تیاریاں

افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر کے بعد خطے کے ممالک اور امریکہ کے نمائندے ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھنے کی تیاریوں میں ہیں۔ افغان مسئلے کے مذاکراتی حل کے لیے ایک چار ملکی گروپ گزشتہ سال جنوری سے کوشاں ہے۔

اس گروپ میں پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کے نمائندے شامل ہیں اور اب یہ گروپ جلد ہی پاکستان میں ایک بار پھر مشاورت کی تیاریوں میں ہے۔ امور خارجہ کے لیے پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے اس بارے میں ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’مئی میں چار فریقی مذاکرات ہوں گے، جس کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ابھی افغان طالبان سے اس سلسلے میں بات چیت نہیں ہوئی کیونکہ یہ اجلاس صرف چار فریقی ہے، جو افغانستان کے مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔‘‘

کابل حکومت نے حال ہی میں طالبان کے کچھ قیدیوں کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل کر دیا تھا اور افغان طالبان اس پر بہت ناراض ہیں۔ اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ نہ تو افغان حکومت نے طالبان سے کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی طالبان کابل انتظامیہ سے کوئی رابطہ رکھنا چاہتے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا، ’’افغان حکومت اور ادارے امریکا کے خدمت گار بنے ہوئے ہیں۔ جب تک افغانستان پر امریکی قبضہ ختم نہیں ہوتا، ہمارے ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ کابل حکومت نے طالبان رہنماؤں کو سزائے موت دی ہے۔ ہم اس کا بدلہ ان سب سے لیں گے۔‘‘

افغانستان میں تشدد کے طویل دور کے بعد کچھ عرصہ قبل مذاکرات کا راستہ ہموار ہونے جا رہا تھا لیکن پھر ملا عمر کی موت کی خبر نے اس عمل کو شدید متاثر کیا اور مذاکرات کے امکانات دوبارہ معدوم ہوتے گئے۔ افغانستان میں قیام امن سے متعلق پاکستان کی جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’افغان حکومت کو ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مذاکرات میں فریقین غیر حقیقت پسندانہ مطالبات پیش کرتے ہی ہیں لیکن بات چیت کے ذریعے مختلف نکات پر اتفاق رائے بھی ہو جاتا ہے۔‘‘

افغان طالبان کے رد عمل کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ مذاکرات کا موجودہ عمل کہاں تک جائے گا۔ اس بارے میں دفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ ان چار فریقی مذاکرات کا کوئی فوری نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا۔

Aschraf Ghani Präsident von Afghanistan

’صدر اشرف غنی نے ابھی تک افغان طالبان کو کوئی ٹھوس پیش کش نہیں کی‘

انہوں نے کہا، ’’افغانستان کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے۔ پاکستان پر سخت دباؤ ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے۔ لیکن افغانوں کے آپس میں بھی بہت سے مسائل ہیں۔ ایک دوسری بات یہ بھی ہے کہ صدر اشرف غنی نے بھی اب تک طالبان کو کوئی ٹھوس پیش کش نہیں کی۔‘‘

پاکستان کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کے مطابق افغانستان کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا، ’جب تک ہم اچھے اور برے طالبان کی تمیز ختم نہیں کرتے‘۔ انہوں نے کہا، ’’ہم آج بھی ’اسٹریٹیجک گہرائی‘ کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ ہم آج بھی کابل میں ایسی حکومت چاہتے ہیں، جو ہمارے اشاروں پر چلے۔ مجھے پاکستان کی پالیسی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ پارلیمنٹ اور سیاستدان چاہتے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ پر امن طریقے سے حل کیا جائے کیونکہ افغانستان میں امن سے خطے میں 90 فیصد دہشت گردی ختم ہوجائے گی۔ لیکن سیاستدان بے بس ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی کون بناتا ہے۔ ہم آج بھی اثاثے والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ جنرل مشرف اور کرنل امام نے تو اس کا کھلے عام اعتراف بھی کیا۔ ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔‘‘

اسی بارے میں تجزیہ نگار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ فی الحال تو مذاکرات کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ ’’طالبان کے کئی رہنماؤں پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ وہ پابندیاں نہیں ہٹائی گئیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس اس مسئلے کی کنجی ہے، حالانکہ اس مسئلے کے حل کے لیے تمام فریقوں کو سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔‘‘

DW.COM