1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان امن مذاکرات کی بحالی: چار ملکی مشاورت کل پاکستان میں

افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ تعطل کے شکار مذاکرات کی بحالی کی خاطر افغانستان، پاکستان، امریکا اور چین پر مشتمل چار ملکی گروپ کا ایک نیا مشاورتی دور کل بدھ اٹھارہ مئی کے روز اسلام آباد میں ہو گا۔

Pakistan Islamabad Außenminister Treffen zu Afghanistan

اس چار ملکی گروپ کا گزشتہ اجلاس فروری میں ہوا تھا

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ چار ملکی گروپ اس سال جنوری سے مسلسل اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح کابل حکومت اور طالبان کے مابین امن بات چیت بحال کرائی جا سکے۔ اس سلسلے میں کابل، اسلام آباد، بیجنگ اور واشنگٹن کے نمائندوں کے مابین بات چیت کا اگلا دور بدھ کو پاکستانی دارالحکومت میں منعقد ہو گا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ یہ چار ملکی گروپ اگرچہ گزشتہ قریب پانچ ماہ سے اپنی مذاکراتی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے تاہم ابھی تک اسے کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جو اس وجہ سے قدرے ناامیدی کا باعث بنی ہے اور اس دوران طالبان عسکریت پسند افغانستان میں اپنی مسلح کارروائیاں کافی تیز کر چکے ہیں۔ طالبان نے کابل حکومت کے خلاف اپنی یہ خونریز مزاحمت 2001ء کے اواخر میں اس وقت شروع کی تھی، جب امریکا کی قیادت میں کی جانے والی اتحادی ملکوں کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں کابل میں طالبان انتظامیہ کو اقتدار سے بےدخل کر دیا گیا تھا۔

اس بارے میں تازہ ترین سفارتی کوششوں کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان محمد نفیس ذکریا نے پیر سولہ مئی کی رات ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین پر مشتمل چار ملکی گروپ کا پانچواں مذاکراتی دور بدھ اٹھارہ مئی کو اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔ ترجمان نے اس مذاکراتی دور کی اس سے زیادہ کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

اس سے پہلے انہی چار ملکوں کے نمائندوں کا چوتھا مذاکراتی دور فروری کے مہینے کے اواخر میں ہوا تھا، جس کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین براہ راست امن بات چیت ممکنہ طور پر مارچ کے شروع میں متوقع ہے‘۔

لیکن یہ امن مذاکرات مارچ میں شروع نہ ہو سکے تھے اور پھر اپریل میں طالبان نے ہر سال کی طرح موسم بہار میں اپنی اس عسکری مہم کا اعلان کر دیا تھا، جس کے تحت افغانستان میں سردیوں کا موسم ختم ہوتے ہی طالبان جنگجو افغان حکومتی دستوں اور ان کے اتحادیوں پر اپنے حملے تیز کر دیتے ہیں۔

کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین براہ راست امن مذاکرات کا آغاز گزشتہ برس موسم گرما میں ہوا تھا لیکن یہ سلسلہ ان انکشافات کے فوراﹰ بعد ختم ہو گیا تھا کہ تب تک زندہ تصور کیے جانے والے طالبان کے رہنما ملا عمر دراصل دو سال پہلے انتقال کر چکے تھے۔ اس کے بعد سے طالبان کا مطالبہ ہے کہ کابل کے ساتھ براہ راست امن بات چیت کی بحالی اسی شرط پر ممکن ہے کہ پہلے ہندوکش کی اس ریاست سے تمام غیر ملکی فوجی دستے واپس چلے جائیں۔

افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے تحت سنگ میل قرار دیے جانے والے کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین اولین براہ راست مذاکراتی دور کی میزبانی پاکستان نے گزشتہ برس جولائی میں کی تھی۔