1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان امن عمل: ’روس، ایران اور بھارت کو بھی شامل کیا جائے‘

روس نے اپنے سابق حلیف ملک افغانستان میں ایسے موقع پر امن عمل کی حمایت کا اعلان کیا ہے جب افغان فوج کا ایک پینتالیس رکنی دسته تربیتی مشن کے لیے روس روانه ہوا ہے۔

کابل اور ماسکو ماضی میں دفاعی اور اقتصادی نگاه سے طویل عرصے تک ایک دوسرے کے خاصے قریب رہے ہیں۔ افغانستان میں چودہ برس قبل امریکا اور اس کے مغربی دفاعی اتحاد ’’نیٹو‘‘ کے دستوں کی آمد کے بعد سے البته وہاں روس کے اثر و رسوخ میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔

کابل میں روس کے سفیر الکسانڈر مانتیسکی نے گزشته روز کها که ان کا ملک افغانستان میں ایک ایسے سیاسی تصفیے کا حامی ہے جو پرامن طریقے سے تنازعے کا خاتمه ممکن بنائے، ’’ہماری نظر میں جنگ اس مسئلے کا حل نہیں، اسی لیے ہم امن عمل کی حمایت کرتے ہیں، ہماری نظر میں افغان قیادت میں اس عمل کو آگے بڑهنا چاہیے تاکه حکومت اور طالبان کے مابین تصفیه ممکن ہوسکے۔‘‘

ان کا یه بیان اس حوالے سے خاصه اہمیت کا حامل ہے که سابق افغان صدر حامد کرزئی نے افغان امن عمل پر کام کرنے والے چہار فریقی گروپ میں روس، ایران اور بهارت کو بهی شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

ایرانی فارس خبر رساں ادارے سے گفتگو کے دوران حامد کرزئی کا کہنا تها که افغانستان میں جاری جنگ محض ایک داخلی مسئله نہیں بلکه اس میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں لہذا اس کے حل کے لیے بهی علاقائی طاقتوں جیسا که روس، بهارت اور ایران کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

روسی سفیر سے جب اس بابت پوچها گیا تو ان کا کہنا تها که یه ایک مثبت نکته نظر ہے تاہم کابل حکومت نے باضابطه طور پر اس حوالے سے ماسکو سے رابطه نہیں کیا ہے۔

فی الحال افغان صدر اشرف غنی کے مشورے پر پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکا و چین اس عمل میں شریک ہیں۔ اس چہار فریقی گروپ نے ہفته کے روز اسلام آباد میں منعقده اجلاس کے بعد طالبان پر زور دیا تها که وه فروری کے اواخر تک براه راست امن مذاکرات کریں۔‘‘

واضح رہے که کابل حکومت اور آزاد مبصرین اس بات پر متفق ہیں که اگر اپریل یا مارچ میں موسم بہار کے آغاز سے قبل امن مذاکرات کا سلسله شروع نه ہوا تو بدامنی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اگرچه رواں برس گزشته برسوں کے مقابلے میں طالبان نے موسم سرما کے دوران بهی حملوں میں کوئی کمی نہیں کی تاہم بہار میں عسکریت پسند عمومی طور پر نئے جنگی سال کا اعلان کرتے ہیں، جو خاصا خونریز ہوتا ہے۔

افغان سکیورٹی دستے اس وقت بهی کم از کم بیس محاذوں پر فوجی آپریشن میں مصروف ہیں۔ اتوار کو 45 افغان فوجی تربیت کے لیے روس روانه ہوئے۔ روسی سفارتخانے میں اس حوالے سے منعقده ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر مانتیسکی نے کہا که ان جوانوں کو بہترین فوجی افسران بنانے کے لیے روسی حکومت تمام تر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔

تجزیه نگار عاشق الله یعقوب کے بقول بلاشبه روس ایک بڑی طاقت ہے اور افغانستان کے ساتھ ماسکو کے تاریخی روابط اسے امتیازی حیثیت کا حامل بناتے ہیں، ’’بات صرف افغانستان تک محدود نہیں، امریکا اور روس بڑی طاقتیں ہیں اور دنیا کے دیگر حصوں میں ان کی رقابت کے اثرات یہاں بهی پڑتے ہیں، ان دونوں کی سرد جنگ کے لیے آخری میدان بهی افغانستان ہی بنا تها تو دیکهتے ہیں اب حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔‘‘

واضح رہے که شام کے حوالے سے روس اور امریکا کے متضاد موقف کو اس ملک کی تباہی کی ایک وجه قرار دیا جاتا ہے۔