1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان امن عمل: جنرل راحیل شریف قطر میں

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنے ایک روزہ دورے کے دوران قطری قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، جس میں علاقائی امور کے علاوہ افغان مصالحتی عمل کے بارے میں بھی صلاح مشورے کیے گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف اپنے ایک روزہ سرکاری دورے کے سلسلے میں قطر میں ہیں، جہاں انہوں نے قطر کے امیر شیخ تميم بن حمد کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر سے بھی ملاقات کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران افغان مصالحتی عمل کے علاوہ عرب ممالک کے مابین تعاون پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق فریقین نے علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون سے متعلق معاملات پر بھی غور کیا ہے۔ قطر کی قیادت کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات ہیں جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک اور باہمی مفاد کے تعلقات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ بیان میں دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان میں اضافے کا اعادہ کیا گیا ہے۔

دریں اثناء پاکستانی فوج کے سربراہ نے قطر کے وزیر دفاع ڈاکٹر خالد بن محمد اور بری فوج کے کمانڈر میجر جنرل محمد بن علی الغنیم سے بھی ملاقات کی۔ پاکستانی فوج کے سربراہ قطر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب تئیس فروری کو چہار فریقی گروپ کا آئندہ مذاکراتی دور دارالحکومت کابل میں ہونے جا رہا ہے۔

پاکستانی فوجی سربراہ اس سلسلے میں افغان حکام سے بھی متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں ان کی گزشتہ ہفتے افغان سفیر عمر زاخیلوال سے بھی ملاقات ہوئی تھی، جس میں پاکستان کی طرف سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کل بروز منگل کابل میں چہار فریقی گروپ کی ملاقات میں طالبان گروپوں اور حزب اسلامی کے ساتھ مذاکرات کے لیے حتمی تاریخ مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

طالبان کا سیاسی دفتر قطر میں ہے اور اس تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں سیاسی مذاکرات میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ چہار فریقی مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ چھ فروری کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ قطر میں موجود طالبان کے دفتر سے رابطہ کیا جائے گا اور انہیں اس امن عمل میں شامل ہونے کے لیے کہا جائے گا۔

کابل حکومت کے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا اعلان رواں ہفتے اس وقت ہو سکتا ہے، جب افغانستان، پاکستان، چین اور امریکا کے اعلیٰ حکامات منگل کے روز ملیں گے۔