1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان الیکشن اور عالمی پذیرائی کا عمل

افغانستان میں اٹھارہ ستمبر کو عام پارلیمانی الیکشن میں عوام نے طالبان کی دھمکیوں کے باوجود انتخابی عمل میں شرکت کی۔ عالمی سطح پر بھرپور الیکشن کے انعقاد کی پذیرائی کا سلسلہ جاری ہے۔

default

ہفتہ کو ہونے والے افغان پارلیمانی انتخابات میں اندازوں کے برعکس ووٹروں کی شرکت کا تناسب چالیس فیصد رہا۔ افغانستان کی مجموعی صورت حال کے تناظر میں ڈالے گئے ووٹوں کا یہ تناسب انتہائی حوصلہ افزا خیال کیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق افغان انتخابی ادارے کے صدر فضل احمد مناوی کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ اس موقع پر عالمی سطح پر کامیاب الیکشن کے انعقاد کی پذیرائی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

سابقہ انتخابات کے مقابلے میں اٹھارہ ستمبر کے الیکشن میں پُرتشدد واقعات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بیس اگست کے صدارتی انتخابات میں 479 ایسے واقعات ہوئے تھے جب کہ عام پارلیمانی الیکشن میں ایسے واقعات کی تعداد 445 بتائی گئی ہے۔ انتخابات میں 4,632 پولنگ سٹیشنوں پر36 لاکھ ووٹرز ووٹ ڈالنے کے لئےپہنچے۔ ان انتخابات کا انعقاد افغان حکام کی زیر نگرانی تھا۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کئی اہم نکات کو سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے نوٹ کیا ہے۔ ان میں خاص طور پر ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کے لئے بہت دیر انتظار کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر نشان لگانے والی روشنائی کے ختم ہونے کی بھی اطلاع موصول ہوئی۔ ووٹنگ کے دوران بوگس ووٹوں کے ساتھ کئی دوسری بے ضابطگیوں کو بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی پولنگ سٹیشنوں کو پولنگ افسران نے مقررہ وقت سے پہلے بند کر دیا تھا۔ کئی امیدوار ان بے ضابطگیوں کی باقاعدہ شکایت الیکشن کمیشن کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Superteaser NO FLASH Afghanistan Wahlen

افغان الیکشن اور انتخابی پوسٹرز

افغانستان میں نیٹو کے تعینات انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فوج یا ISAF کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے انتخابات میں بھرپور شرکت پر افغان عوام کے ہمت اور حوصلے کی تعریف کی ہے۔ پیٹریاس کے مطابق عوام کی شرکت نے انتہاپسندوں کو ایک زوردار پیغام ارسال کیا ہے کہ وہ لوگ اپنے ملک میں امن و سلامتی اور جمہوری روایات کے متمنی ہیں۔ پیٹریاس کے مطابق الیکشن میں عوام کی شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ افغانستان کا مستقبل پرتشدد انتہاپسندوں کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ وہاں کی عوام کے ہاتھ میں ہے۔ ان انتخابات میں افغان سکیورٹی فورسز کی چوکسی کی بھی امریکی جنرل نے تعریف کی۔

افغانستان میں تعینات نیٹو کے سینئر سویلین نمائندے مارک سیڈویل کا کہنا ہے، انتخابی عمل میں ووٹ ڈال کر عوام نے اظہار کیا ہے کہ پرتشدد حالات و واقعات سے افغان عوام کی جمہوری اقدار سے وابستگی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بحر اوقیانوس کے ملکوں کے دفاعی اتحاد نیٹو(NATO) کے سربراہ آندرس فوگ راسموسن نے بھی انتخابات میں عوامی شرکت کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے ان کو مبارک باد پیش کی۔ راسموسن کے مطابق پرتشدد واقعات کے باوجود عوام نے اپنے بنیادی جمہوری حق کا استعمال کر کے انتہاپسندانہ رویوں کی نفی کر دی ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی انتخابات میں عوامی شرکت کو سراہتے ہوئے اس کو بہادرانہ اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا۔ بان کی مون کے بیان میں سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات کی بھی تعریف کی گئی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے کے مطابق افغانستان میں انتخابات وہاں کے عوام میں جمہوریت کے لئے پائے جانے والے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔اسی طرح کینیڈا نے بھی انتخابات کے انعقاد کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے پرتشدد واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس