1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان الیکشن اور امریکی مؤقف

امریکی حکام، افغان صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور تقریبا غیر فعال کرزئی حکومت پر دباو میں اضافہ کرتے ہوے، مزید فوجی دستے بھیجنے کے معاملے پر بھی سوالا ت اٹھا رہے ہیں۔

default

امریکی وزیر دفاع اور افغان صدر : فائل فوٹو

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے طالبان اور القاعدہ کے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے قابل اعتبار اور موثرکابل حکومت انتہائی ناگزیر ہے۔

کابل کے دورے پر سابقہ امریکی صدارتی امیدوار اور موجودہ سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چئرمین جان کیری کے بقول صدر اوبامہ کی جانب سے موجودہ حالات میں مزید فوج افغانستان بھیجنا غیر ذمہ دارانہ فعل ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ابھی انتخابی عمل مکمل نہیں ہوا، معلوم ہی نہیں کہ ملک کا صدر کون ہو گا، اوروہاں کس طرز کی حکومت کے ساتھ کام کرناہو گا۔ جیسا کہ کمانڈنگ جنرل نے بتایا ہے کہ مشن کی کامیابی کے لئے موثر کابل حکومت انتہائی ضروری ہے، ایسے میں اگر امریکی صدر مزید فوج چاہیے تو بھیج دیتے ہیں تو یہ انتہائی غیر ذمہ داری ہوگی۔

John McCain und John Kerry in einem Senats Ausschuss Kriegsgefangene und Vermisste Soldaten 1992

جان کیری سینٹ کمیٹی کے اجلاس میں: فائل فوٹو

کابل سے براہ راست امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس سے بات چیت میں کیری نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صدر کرزئی اچھی حکومتی عملداری دکھائیں اور ثابت کریں کہ اچھے مستقبل کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں وہ عالمی برادری کے شانہ بشانہ ہیں۔ امریکی عہدیدار کے بقول معقول کابل حکومت، نیٹو فورسز کے مشن کی کامیابی اور خطے میں امریکہ کے طویل مدتی مفادات کے لئے ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ بیس اگست کے افغان صدارتی انتخابات کے غیر حتمی نتائج میں حامد کرزئی کو پچپن فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیاب قراردیا گیا تھا۔ تاہم ان کے قریبی حریف سابق وزیر خارجہ عبدللہ عبدللہ نے انتخابات میں بڑے

Afghanistan Präsidentschaftswahl Stimmauszählung im Wahllokal

افغانستان الیکشن: ووٹوں کی گنتی کا عمل، فائل فوٹو

پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کئے تھے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان ممکنہ طورپر دوبارہ انتخابی مقابلے کا اعلان جلد متوقع ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئی حکومت کا موثر نہ ہونا اور افغان قوم میں اِس تاثرکا ابھرناکہ امریکہ کی جانب سے ان پر حکومت مسلط کی گئی ہے ، یہ امریکی افغان پالیسی کے لئے مثبت نہیں ہوگا۔

دوسری طرف، عسکری محاذ پر بھی افغانستان میں مغربی ممالک کومسائل کا سامنا ہے۔ اتحادی ممالک کی ایک لاکھ فوج کو آٹھ سال قبل طالبان حکومت گرانے کے بعد سے عسکریت پسندوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک چار سو سے زائد غیر ملکی فوجی مارے جاچکے ہیں۔ امریکی حکام پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع قبائلی علاقے سے بھی عسکریت پسندوں کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

امریکی صدر اوباما سردست افغانستان میں مزید فوجیوں کی تعیناتی پر مشاورتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں تعینات اعلیٰ امریکی جنرل میک کرسٹل نے چالیس ہزار فوجیوں کی درخواست کر رکھی ہے۔