1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان ارکان پارلیمان اور صدر کرزئی کے مابین مفاہمت

افغانستان کی نو منتخب پارلیمان کے ارکان نے کہا ہے کہ ان کا صدر حامد کرزئی کے ساتھ ایک ایسا مفاہمتی تصفیہ ہو گیا ہے، جس کے ذریعے ملک میں ممکنہ آئینی بحران سے بچا جا سکے گا۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

یہ آئینی بحران اس صورت میں پیدا ہوتا جب نئی ملکی پارلیمان کا اولین اجلاس مزید تاخیر کا شکار ہو جاتا۔ اب لیکن آئندہ چند روز میں نو منتخب افغان پارلیمان کے اولین اجلاس کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

اس تصفیے کے لیے افغان صدر حامد کرزئی اپنا دورہ روس وقت سے پہلے ہی مکمل کر کے واپس وطن پہنچے تھے۔ ان کے اس اقدام کا مقصد اپنی ذات پر اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تنقید کا خاتمہ تھا۔

صدر کرزئی پر یہ تنقید اس لیے کی جا رہی تھی کہ انہوں نے ابھی حال ہی میں گزشتہ عام الیکشن کے بعد وجود میں آنے والی نئی ملکی پارلیمان کے اولین اجلاس کو فروری کے آخر تک کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔ اس مصالحتی حل کے بعد صدر کرزئی اپنے گزشتہ طرز فکر سے ہٹ کر اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ نئی قائم ہونے والی افغان پارلیمان کا پہلا اجلاس اب آئندہ ہفتہ بدھ کے روز بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے بدلے حال ہی میں منتخب ہونے والے اراکین پارلیمان اس بات پر آمادہ ہو گئے ہیں کہ نیا ملکی قانون ساز ادارہ اس بات کی منظوری دے دے گا کہ صدر کرزئی کی قائم کردہ ایک خصوصی عدالت کو وہ اختیار حاصل ہو گا، جس کے صدر کرزئی خواہش مند تھے۔

حامد کرزئی چاہتے ہیں کہ ملک میں گزشتہ سال اٹھارہ ستمبر کو ہونے والے عام الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے اپوزیشن اور کئی مبصرین کی طرف سے جو الزامات لگائے گئے تھے، ان کی چھان بین کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے۔

Das afghanische Parlament

مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں میں اس مفاہمت کی تصدیق کر دی گئی ہے

مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں میں اگرچہ اس مفاہمت کی تصدیق کر دی گئی ہے تاہم ساتھ ہی ان امکانات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ یہ دوطرفہ مصالحت عین آخری لمحات میں ناکام بھی ہو سکتی ہے۔ اس بارے میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے نئے ارکان پارلیمان کے ایک سرکردہ رہنما اور صوبہ پکتیا سے منتخب ہونے والے سیاسی لیڈر نواب مینگل کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا ہے کہ کُل 249 منتخب اراکین کی ایک بڑی تعداد نے صدر کرزئی کے ساتھ اس تصفیے کی حمایت کر دی ہے لیکن عین آخری وقت پر مصالحت کی یہی کوششیں ناکام بھی ہو سکتی ہیں۔

قبل ازیں صدر کرزئی کے اس اعلان کے بعد کہ نئی افغان پارلیمان کا اولین اجلاس فروری کے آخر میں ہوگا، بہت سے نو منتخب ارکان نے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ وہ اپنے طور پر ہی اس پارلیمان کا پہلا اجلاس آج اتوار کے روز منعقد کریں گے۔ اب لیکن یہ ارادہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور پارلیمانی نمائندے نئے ہفتہ کے وسط تک خود صدر کرزئی کی طرف سے یہ اجلاس طلب کیے جانے کا انتظار کریں گے۔

افغانستان کے آئین کے مطابق نئی پارلیمان کے اولین اجلاس کا افتتاح کرنا ملکی صدر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اسی لئے ایسا کوئی بھی اجلاس، جس کا افتتاح صدر نے نہ کیا ہو، غیر آئینی ہو گا۔ دوسری طرف اراکین پارلیمان کے ساتھ کوئی نہ کوئی تصفیہ خود صدر کرزئی کی سیاسی مجبوری بھی تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ اولین پارلیمانی اجلاس کے فروری کے آخر تک ملتوی کئے جانے کے صدارتی فیصلے کے بعد اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور افغانستان کے اتحادی دیگر ملکوں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے صدر کرزئی سے کھل کر یہ مطالبہ کیا تھا کہ چار ماہ سے بھی زیادہ عرصہ قبل ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی نئی ملکی پارلیمان کا پہلا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے۔

افغان صدر اور نو منتخب پارلیمانی ارکان کے درمیان اس مصالحت کے بارے میں کابل سے منتخب ہونے والی ایک خاتون رکن پارلیمان شکریہ برق زئی نے کہا کہ یہ مصالحتی حل صدر حامد کرزئی کی ناکامی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کے الزامات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کا قیام اور ارکان پارلیمان کا اس بارے میں صدارتی موقف کو تسلیم کرنا دراصل حامد کرزئی کی فتح ہے۔

رپورٹ:عصمت جبیں

ادارت:عاطف بلوچ

DW.COM