1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانی آئے آئے، روپیہ بائے بائے

افغانستان کے کئی علاقوں میں دہائیوں سے مروجہ پاکستانی کرنسی "روپے/ کلدار" پر پابندی اور اس کی جگہ مقامی کرنسی "افغانی" کے فروغ کی مہم زوروں پر ہے.

Pakistan Wechselstube auf der Straße

"دا افغانستان بانک" نے ایک اعلامیے کی تحت تاجروں کو متنبہ کیا ہےکہ وہ مزید غیر ملکی کرنسی میں کاروبار نہ کرے

افغانستان کے بیشترعلاقوں میں کئی دہائیوں سے مروجہ پاکستانی کرنسی "روپے/ کلدار" پر پابندی اور اس کی جگہ مقامی کرنسی "افغانی" کے فروغ کی مہم زوروں پر ہے.

جنگ زدہ افغانستان کے سرحدی صوبوں میں بالخصوص ایک عرصے سے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران کی کرنسی ایسے استعمال ہوتی رہی ہے گویا وہ اسی ملک کی کرنسی ہو۔ یوں تو اس کی بنیادی وجہ ملک میں عدم استحکام اور تجارت کے لیے پڑوسی ممالک پر مجبوری کی حد تک انحصار ہے تاہم حالیہ اقتصادی استحکام کے باوجود ان سرحدی علاقوں کے لوگ پاکستانی روپے اور ایرانی تومان میں لین دین کرتے رہے ہیں.

کچھ دنوں سے جنوبی "لوی قندهار" اور جنوب مشرقی "لويہ پکتيا" کے علاقوں میں روپے پر پابندی اور افغانی کے فروغ کی مہم زوروں پر ہے.

رواں ہفتے قندهار میں مرکزی بینک "دا افغانستان بانک" نے ایک اعلامیے کی تحت تاجروں کو متنبہ کیا ہےکہ وہ مزید غیر ملکی کرنسی میں کاروبار نہ کریں۔ ۔کچھ لوگوں نے تو اس اعلان پر عمل درآمد کیا بھی ہے لیکن اصل رد عمل یہاں کے طاقتور اور بارسوخ پولیس چیف جنرل عبدالرازق کی اپیل پر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ’گریٹر قندهار‘یعنی خود صوبہ قندهار اور ملحقہ ہلمند، زابل اور اروزگان صوبوں میں جوق در جوق لوگ روپیہ واپس کرکے کرنسی کا کاروبار کرنے والوں سے افغانی لے کر اس میں تجارت کر رہے ہیں ۔

USA Währung Dollar

گزشتہ ہفتے ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں افغانی کی قدر میں بہتری آئی ہے

قندهار کی آ‌بادی اور یہاں کی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کے پیش نظر اس تبدیلی کے اثرات دارالحکومت کابل تک محسوس کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں افغانی کی قدر میں بہتری آئی ہے۔ اسی طرح ایک افغانی کی قیمت روپے کے مقابلے میں ایک اعشاریہ پانچ سے بہتر ہوکر ایک اعشاریہ آٹھ کے آس پاس تک پہنچ چکی ہے۔

کابل صرافہ مارکیٹ میں کرنسی کی لین دین کرنے والوں کی تنظیم کے سربراہ حاجی قندی آغا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنوبی افغانستان میں افغانی کی مانگ میں بے تحاشہ اضافہ دیکها جارہا ہے، جس کے باعث مقامی منڈی میں اس کی قدر ہر لمحہ بڑھ رہی ہے۔ ان کے بقول یہ نئی کرنسی پاکستان کی سرحد سے ملحق مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں جیسے کہ پکتیا، پکتیکا، کنڑ، ننگرہار، لوگر اور لغمان پر بھی اثرات ڈال رہی ہے جہاں مقامی سطح پر لوگوں نے افغانی کا استعمال عام کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ تاہم یہ نکتہ بھی کم اہم نہیں کہ افغانستان کے بڑے شہروں میں اب بھی بڑے تجارتی سودے ڈالر میں ہوتے ہیں۔

کرنسی کی قدر میں استحکام بطور ایک درآمدی ملک افغانستان کے لیے بہتر ہے۔ تاہم طویل المدتی لحاظ سے درآمدات پر انحصار اقتصادی نکتہ نگاہ سے گهاٹےکا سودا ہے۔ ماہر اقتصادیات عبداللہ زیارمل کے بقول یہ پیشرفت افغانستان کے لیے تجارتی میزان درست کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے تاہم يہ پيداوار کے مقابلے میں درآمدات میں اضافےکا سبب بھی بن سکتی ہے۔

Pakistan Afghanistan Grenze Torkhum Peshawar

طورخم کی راہداری پر تنازعے کے باعث پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تجارت میں واضح کمی آئی ہے

یاد رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے مابین طورخم کی راہداری پر تنازعے اور پاکستان میں مبینہ طور پر افغان تاجروں کو درپیش مشکلات کے باعث ان دو پڑوسی ممالک کے مابین دو طرفہ تجارت میں واضح کمی آئی ہے۔ افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے ساتھ براہ راست تجارت میں قریب 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

زیارمل اس حوالے سے کہتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ افغانی کی قدر میں بہتری کے بعد درآمدات ایک مرتبہ پهر بڑھ جائیں کیونکہ موجودہ حالات میں کم لاگت پر زياده اشیا ضرورت کو در آمد کیا جاسکتا ہے۔ افغانستان مناسب قیمت پر خوراکی اجناس، تعمیراتی مواد اور ادویات کے ليے کافی حد تک پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔

ان کے بقول 'دا افغانستان بانک' کو موقع سے فائدہ اٹهاتے ہوئےملکی کرنسی کی ساکھ کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیں۔

DW.COM