1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانیوں کا گڑھ ، کراچی کا علاقہ سہراب گڑھ

طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کے ایک اور قریبی ساتھی ملا آغا جان کو کراچی کے سہراب گوٹھ نامی علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہراب گوٹھ میں طالبان عسکریت پسند کب سے پناہ لینے لگے ؟

default

مشتبہ طالبان رہنما عبداللہ الیاس ابو وقاص کو بھی کراچی سے ہی گرفتار کیا گیا

طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کے ایک اور قریبی ساتھی ملا آغا جان کو کراچی کے سہراب گوٹھ نامی علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہراب گوٹھ میں طالبان عسکریت پسند کب سے پناہ لینے لگے اور کس طرح یہ علاقہ عسکریت پسندوں کا مرکز بنتا گیا؟

کہنے کو تو وہ علاقہ بھی سہراب گوٹھ ہے جو راشد منہاس روڈ پر بنائے گئے نئے flyoverکے نیچے پایا جاتا ہے۔ اس سے آگے الآصف اسکوائر اور معمار اسکوائر بھی سہراب گوٹھ ہی کہلائے جاتے ہیں۔مگر یہ نام لیجئے اور جو علاقہ سب سے پہلے ذہن میں آئے گا وہ ہے جرائم کی ایک ایسی دنیا جہاں مجرموں کی سرکوبی کیلئے قانون نافذ کرنے والے ادارے جاتے ہوئے بھی سو بار سوچتے ہیں۔ یہ ہے وہ سہراب گوٹھ جہاں جرم بستا ہے اور جہاں اس خطے کے کئی نامی گرامی دہشتگردوں نے پناہ حاصل کی۔

یہاں رہنے والوں میں ایک بڑی تعداد محسود قبائلیوں کی ہے۔ یہ وہی قبیلہ ہے جو وزیرستان میں پاکستانی افواج کے خلاف نبرد آزما ہے۔ سہراب گوٹھ کے رہنے والے محسود اس جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ یہاں سے اس جنگ میں لڑنے والے محسود قبائلیوں کیلئے مالی امداد بھی بھیجی جاتی ہے اور وہاں زخمی ہونے والوں کے علاج معالجے کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے۔ ان زخمیوں کیلئے رہائش کا بھی یہاں انتظام ہے۔

سیکورٹی امور کے تجزیہ کار جمیل یوسف ان لوگوں کی یہاں موجودگی کو افغان جنگ کا نتیجہ بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جنگ جو سنہ 80 کی دہائی میں لڑی گئی، اپنے پیچھے ایک تکلیف دہ تاریخ چھوڑ گئی ہے اور یہ لوگ اسی دکھ کی باقیات ہیں۔

Pakistan Unruhen in Karachi nach Absetzung von Obersten Richter

سہراب گوٹھ میں پولیس بھی جانے سے گھبراتی ہے

اب صورتحال یہ ہے کہ کراچی کے تمام داخلی راستوں پر یہ لوگ بیٹھے ہیں اور سرنگوں سے انہوں نے ایک دوسرے سے رابطہ رکھا ہوا ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں نے ان جرائم پیشہ کو پنپنے کا خود موقع دیا صرف اپنی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے۔ ہر بار ان کے خلاف عسکری کارروائی کرنے کی بات کی گئی لیکن پھر فیصلہ موقوف کردیا گیا کہ کسی سیاسی حلیف کویہ بات راس نہ آتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بھی اگر ان کو یہاں سے نہیں ہٹایا گیا تو صورتحال اور بھی بگڑ سکتی ہے۔اور یہ عمل پولیس یا رینجرز کے بس کا نہیں۔ جمیل یوسف کہتے ہیں کہ یہ عسکری کارروائی تو اب فوج کی نگرانی میں ہی ہو سکتا ہے۔

یہ سب صورتحال کراچی پولیس اور امن عامّہ کے ذمہ دار اعلیٰ حکّام کے علم میں ہے۔ مگر ان سب کو جانتے ہوئے بھی وہ اس علاقے میں کچھ بھی نہیں کرپاتے۔ اس کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جرائم پیشہ افراد کی بستی میں گھس جانا ویسے بھی کوئی آسان کام نہیں۔ یہاں اسلحہ بہت بھاری تعداد میں پایا جاتا ہے۔ 80 کی دہائی میں سندھ حکومت نے سہراب گوٹھ پر ہی واقع منشیات کے اڈّوں اور زمین کے ناجائز قبضوں کو ختم کرنے کیلئے جو آپریشن کلین اپ کیا تھا اس کے نتیجے میں دوسرے ہی دن بد ترین لسانی فسادات نے شہر کو خون سے رنگ دیاتھا۔ شاید حکومت ایسی ہی کسی صورتحال سے خائف ہے۔

دوسرے یہ کہ سہراب گوٹھ کے رہائشی مالی طور پر بہت مستحکم ہیں۔ کراچی کے ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں ان کا ایک بڑا حصہ ہے۔ شہر میں چلنے والے ڈمپروں میں سے تقریبا پانچ سو ان کی ملکیت ہیں۔ ان میں سے ہر ایک لگ بھگ 54سے 50 لاکھ روپے کی مالیت کا ہوتا ہے۔ جہاں روپے پیسے کی اتنی ریل پیل ہو وہاں مزید اسلحہ حاصل کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوجاتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ کیا یہاں ہاتھ ڈالنا کوئی عقلمندی ہوگی بھی کہ نہیں۔ پھر کچھ یوں بھی ہے کہ پاکستان کی پولیس بالکل دودھ سے دھلی ہوئی بھی نہیں۔ خود پولیس والے اس بات کے معترف ہیں کہ ان کے یہاں پائی جانے والی کالی بھیڑوں کی وجہ سے بھی اس علاقے میں کارروائی کرنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ گڈاپ ٹاﺅن جہاں سہراب گوٹھ پایا جاتا ہے وہاں کے ٹاﺅن پولیس آفیسر (TPO) کا کہنا ہے کہ اس علاقے کا ایک سابقہ چوکی انچارج اعظم محسود جرائم پیشہ گروہوں کی سرپرستی کے حوالے سے بدعنوان رہا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ وہ ایسے مجرموں کی پشت پناہی کرتے رہے جو اسلحہ اور منشیات کا کاروبار کرتے، اغواء برائے تاوان میں ملوث ہوتے، اور غیر پشتونوں کو دھمکا کر ان کی جائیداد ہڑپ کرجاتے تھے۔ اعلیٰ حکام نے ان کا تبادلہ تو کردیا لیکن ان کو پولیس فورس سے برطرف کرنا اتنا آسان نہیں۔

اس علاقے میں قانون بھی پھر وہی لوگ ہیں جو جرم بھی کرتے ہیں اور جرم کی اعانت بھی ۔حکومت کی کوئی رٹ نظر ہی نہیں آتی۔ پولیس کسی مفرور مجرم کو پکڑنے یہاں داخل نہیں ہوسکتی۔کچھ سال پہلے انسداد تشددسیل برائے جرائم کے سربراہ فاروق اعوان کچھ جرائم پیشہ افراد کی وہاں موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارنے وہاں گئے تھے لیکن وہاں موجود مسلح افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوکر واپس چلے گئے تھے۔ ان کے ساتھ دو پولیس اہلکار جاں بحق بھی ہوئے تھے۔

افغان طالبان کا ایک اہم کمانڈر ملا حسن رحمانی اسی علاقے کے ایک مدرسے میں کافی عرصے مقیم رہے۔ ملا برادر کی گرفتاری سے قبل پولیس نے چاہا تھا کہ ان کو گرفتار کیا جائے لیکن پھر ایک حسّاس ادارے نے دخل اندازی کی اور گرفتاری رک گئی۔ وجہ اس کی یہ بتائی گئی کہ جس علاقے میں یہ مدرسہ پایا جاتا ہے اس کی پاسداری بلوچستان کے بگٹی قبائل کرتے ہیں۔ اور ان سے جھگڑا مول لینا بلوچستان کی سیاست میں ایک نئی چنگاری ڈالنے کے مترادف سمجھا گیا۔

Pakistan Unruhen in Karachi nach Absetzung von Obersten Richter

پاکستان کا عدالتی نظام بھی اس علاقے میں کچھ نہیں کر سکتا

سابق وزیرِ داخلہ معین الدین حیدر اس بات کو مانتے ہیں کہ ان لوگوں کا یہاں ہونا بہت خطرے کی بات ہے۔ نہ صرف یہ جرائم پیشہ ہیں بلکہ دہشتگردی کو ہوا اور پناہ دینے والے بھی۔ معین الدین حیدر کہتے ہیں ’کراچی میں اسلحہ واقعی بہت موجود ہے، اور متحرب دھڑے جب موقع ملتا ہے اس کا استعمال بڑی آزادی سے کرتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ جب وزارتِ داخلہ ان کے ہاتھ میں تھی تو وہ ہتھیاروں سے پاک معاشرے کے لئے کئی مہم چلاتے رہے تھے، لیکن ان مہمات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ کیوں نہیں نکلا تو انہوں نے کہاکہ اس وقت کی حکومت کی ترجیحات مختلف تھیں۔

محسود قبیلہ اپنے جرگہ نظام کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ ایک ایسے نظام میں جہاں حصولِ انصاف کے عمل میں خواتین کو حصہ لینے کا کوئی حق نہیں یہ سخت کٹر قبائلی نظام کسی جدید طور طریق کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔علاقے کی بااثر لوگوں پر مشتمل یہ جرگہ صرف محسود ہی نہیں بلکہ ازبک، تاجک، اور دری بولنے والے دوسرے افغانوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی سرپرستی بھی کرتاہے۔ نہ صرف شہر کے جرائم پیشہ افراد یہاں پناہ حاصل کرتے ہیں بلکہ تاوان کیلئے اغواءکئے گئے لوگ بھی یہاں رکھے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کوپھر یاتو لیاری یا حب کے جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھوں فروخت کردیا جاتا ہے یا پھر ان کے محفوظ عقوبت خانوں میں متقل کر دیا جاتا ہے۔

ایسا نہیں کہ یہاں صرف یہی جرائم پیشہ گروہ پائے جاتے ہیں۔ عام آدمی بھی یہاں رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر چند کہ وہ بھی یہاں کبھی غیر ملکیوں کی طرح افغانستان سے آئے تھے مگر اب ان کی دوسری نسل یہاں پل بڑھ رہی ہے اور وہ بھی اس ملک کے اسی طرح شہری ہیں جیسا کہ کوئی اور۔ یہاں کے ایک چائے خانے میں بیٹھے ازبک اور تاجک نوجوانوں نے بتایا کہ ان کے گھروں میں ریڈیو پر اب بھی ، افغانستان کی طرح، ڈوئچے ویلے کی نشریات سنی جاتی ہیں۔ یہ روایات بھی وہ اپنے وطن سے لے کر آئے ہیں۔ لیکن اب تو پاکستان ہی ان کا وطن ہے۔ اور رہی بات جرائم پیشہ کی، تو ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ کس معاشرے میں نہیں ہوتے۔

رپورٹ: رفعت سعید

ادارت:کشور مصطفیٰ

DW.COM