1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانوں میں خوف، ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر

افغان عوام میں اپنی حفاظت کے حوالے سے کافی خوف پایا جاتا ہے۔ ایک سالانہ سروے کے مطابق خوف کا یہ درجہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران بلند ترین سطح پر ہے۔ دوسری طرف حکومت پر اعتماد انتخابات کے بعد کم ترین سطح پر ہے۔

آج منگل 17 نومبر کو شائع ہونے والی اس سروے رپورٹ کے مطابق 67.4 فیصد افغانوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر وقت، اکثر یا کبھی کبھار اپنی بہتری کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ پریشانی میں مبتلا ان افراد کی یہ شرح 2004ء میں سروے شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک کی بلند ترین ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ شرح دو فیصد زائد ہے۔

ایشیا فاؤنڈیشن نامی تنظیم کی طرف سے کرائے جانے والے اس سالانہ سروے کے دوران جن لوگوں سے سوالات کیے گئے ان میں سے محض ایک تہائی افراد ایسے تھے جن کا کہنا تھا کہ ملک درست سمت میں جا رہا ہے۔ یہ شرح دو برس قبل کے مقابلے میں نصف کے قریب بنتی ہے۔ 2013ء میں کرائے جانے والے سروے میں 58 فیصد افراد نے یہ کہا تھا کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

57.5 فیصد افغانوں کا خیال ہے کہ ان کے ملک میں کوئی بہتری نہیں آ رہی۔ وہ عدم تحفظ، بے روزگاری اور بدعنوانی کو وہ اہم مسائل قرار دیتے ہیں جو افغان معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

اس سروے کے مطابق لوگوں میں مستقبل کے لیے امید کی بلند ترین شرح شمالی صوبہ ہلمند میں پائی جاتی ہے جو طالبان کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اس کی کم ترین شرح دارالحکومت کابل میں ہے۔

بم دھماکے، اغوا، بے روزگاری اور ایک ایسی معیشت جس میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی، وہ عام مسائل ہیں جن کی وجہ سے افغان یورپ کی طرف ہجرت کرنا چاہتے ہیں، بھلے اس کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے یا غیر قانونی۔ شامی مہاجرین کے بعد افغان تعداد میں وہ دوسری بڑی قوم ہیں جو انسانی اسمگلرز کے ذریعے یورپ پہنچ رہے ہیں۔

شامی مہاجرین کے بعد افغان تعداد میں وہ دوسری بڑی قوم ہیں جو انسانی اسمگلرز کے ذریعے یورپ پہنچ رہے ہیں

شامی مہاجرین کے بعد افغان تعداد میں وہ دوسری بڑی قوم ہیں جو انسانی اسمگلرز کے ذریعے یورپ پہنچ رہے ہیں

ایشیا فاؤنڈیشن کے مطابق، ’’اس سال کے سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ افغانوں میں ملک کی بحیثیت مجموعی صورتحال کے بارے میں پر امیدی کا درجہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اپنی نچلی ترین سطح پر ہے۔ اس سے قبل 2014ء تک اس کا درجہ مسلسل بڑھتا رہا تھا۔‘‘

اس سروے میں افغانستان کے 34 صوبوں میں 14 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 9,586 افغانوں سے انٹرویو کیے گئے۔ اس تنظیم کے مطابق اس سروے کے نتائج میں غلطی کا امکان محض 1.6 فیصد ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ سروے رپورٹ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب طالبان کی طرف سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہر سال موسم بہار اور گرمیوں کے دوران طالبان کے حملوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور سکیورٹی حکام کے مطابق رواں برس ایسے حملوں میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ طالبان نے رواں برس ملک کے شمالی صوبہ قندوز پر بھی کچھ وقت کے لیے قبضہ کر لیا تھا۔ یہ افغانستان میں عسکریت پسندی شروع ہونے کے بعد سے طالبان کی سب سے بڑی فتح تھی۔