1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

افغانستان: گھریلو تشدد اور خواتین میں طلاق کا رُجحان

عورتوں پر گھریلو تشدد افغانستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں عام بات ہے۔ تاہم یہ پہلی بار ہے کہ افغان خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد طلاق کے ذریعے با اختیار ہونے کا ایک نیا راستہ اپنا رہی ہے۔

Afghanistan - Häuslicher Missbrauch - Scheidung (Getty Images/AFP/N. Shirzada)

 شریعت کی رُو سے طلاق کو جائز تاہم نا پسندیدہ  فعل تصور کیا جاتا ہے

افغان خاتون نادیہ کے نشے کے عادی شوہر نے اسے لوہے کے راڈ سے زدو کوب کرنا شروع کیا تو اُس نے وہ قدم اٹھا لیا جس کا افغانستان میں بہت سی خواتین تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ نادیہ نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی۔

 شریعت کی رُو سے طلاق کو جائز تاہم نا پسندیدہ  فعل تصور کیا جاتا ہے۔ قدامت پسند ثقافتوں میں اسے اب بھی عورت کے لیے بے حد معیوب سمجھا جاتا ہے۔

 نادیہ نے خبر رساں ادرے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ وہ منشیات اور شراب کا عادی ہے میں مزید اُس کے ساتھ نہیں رہ سکتی‘‘ نادیہ کے والد اُس کے قریب ہی بیٹھے تھے اور اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ نادیہ کی برادری سے قبائلی عمائدین نے اُسے اُس کے زدو کوب کرنے والے شوہر کے پاس جانے کے لیے بہت بہلایا پھسلایا لیکن نادیہ نے اپنا فیصلہ خود کر لیا اور اپنے خاندان میں طلاق کا مطالبہ کرنے والی پہلی خاتون بن گئی۔ نادیہ کا کہنا تھا  کہ خدا نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں، طلاق کا حق بھی اُن میں سے ایک ہے۔

نادیہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے ایک پراجیکٹ ’’لیگل ایڈ گرانٹ فیسیلیٹی‘‘ کی مدد سے قانونی طور پر اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُس کا شوہر گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے اور جب سے وہ گیا ہے اُس کا ٹھکانہ کسی کو معلوم نہیں۔

Afghanistan - Häuslicher Missbrauch - Scheidung (Getty Images/AFP/N. Shirzada)

نادیہ کا کہنا ہے کہ خدا نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں، طلاق کا حق بھی اُن میں سے ایک ہے

 افغان خواتین میں طلاق لینے کی شرح میں کس حد تک اضافہ ہوا ہے، اس کے سرکاری اعداد و شمار تو میسر نہیں تاہم  یو این ڈی پی کے منصوبے ’ایل اے جی ایف‘ کے مطابق گزشتہ تین برس میں افغانستان بھر میں  اُس نے طلاق کے مقدمات میں بارہ فیصد اضافہ دیکھا ہے۔

تاہم کچھ افغان خواتین بائیس سالہ نفیسہ جیسی بھی ہیں جسے اُس کے شوہر نے طلاق دینے سے انکار کر دیا ہے اور وہ جیسے ایک برزخ میں زندگی گزار رہی ہے۔ نفیسہ کا شوہر لندن میں مقیم ہے اور یہ شادی اُس کی غیر حاضری میں گیارہ سال منگنی رہنے کے بعد ہوئی۔ لیکن اب وہ افغانستان واپس آنے یا نفیسہ کو اپنے ساتھ لندن لے جانے سے انکاری ہے۔ اس بات نے نفیسہ کو اُس کی سسرال کا گھر چھوڑنے اور طلاق لینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔

 نفیسہ کے گھر کے مردوں نے اُسے اے ایف پی سے بات کرنے سے روک دیا تاہم نفیسہ کے چچا نے صرف یہ بتایا کہ طلاق کا کیس عدالت میں ہے اور خاندان کے لیے بڑی شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔ نفیسہ کے چچا کا یہ بھی کہنا تھا کہ طلاق کے بعد نفیسہ کی دوسری شادی کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے۔

 افغان معاشرے میں خود مختار زندگی گزارنے والی طلاق یافتہ خواتین بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ سماجی سطح پر شک و شبے اور بد سلوکی کا نشانہ بن جاتی ہیں۔