1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: گوانتانامو کا ایک سابق قیدی ہلاک

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور افغان فورسز کے ایک مشترکہ آپریشن میں گوانتانامو کے ایک سابق قیدی کو، جو اپنی رہائی کے بعد افغانستان لوٹ کر القاعدہ کا ایک اہم ساتھی بن گیا تھا، ہلاک کر دیا گیا ہے۔

امریکی حراستی کیمپ گوانتانامو

امریکی حراستی کیمپ گوانتانامو

صابر لعل میلما کو ستمبر 2007ء میں کیوبا کی سرزمین پر واقع امریکی حراستی کیمپ گوانتانامو سے رہا کیا گیا تھا۔ نیٹو کے ترجمان کیپٹن جسٹن بروک ہوف نے بتایا کہ یہ عسکریت پسند مشرقی افغان صوبے کنڑ میں منظم حملے کرنے کے ساتھ ساتھ باغیوں کے آپریشنز کے لیے مالی وسائل بھی فراہم کر رہا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اِس عسکریت پسند کی ہلاکت اُن خطرات کی نشاندہی کرتی ہے، جو عسکریت پسندوں کو حراست میں رکھنے کے متنازعہ نظام کو ختم کرنے میں پنہاں ہو سکتے ہیں۔

نیٹو کے ایک بیان میں میلما کو ’القاعدہ تنظیم کا ایک کلیدی ساتھی‘ قرار دیا گیا ہے، جو افغانستان اور پاکستان دونوں جگہ القاعدہ کے سینئر ارکان کے ساتھ رابطے میں تھا۔

گوانتانامو کا ہی ایک اور سابق قیدی، جو رہا ہونے کے بعد یمن میں جا کر القاعدہ کی شاخ سے وابستہ ہو گیا تھا، حال ہی میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ فوجی دستوں نے جمعہ  کی شب جلال آباد میں میلما کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور اُس وقت اُسے گولی مار کر ہلاک کر دیا، جب وہ اپنے گھر سے ایک AK-47 رائفل ہاتھ میں تھامے نمودار ہوا۔ مزید کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

’’امریکی فوجیوں کے ایک گروپ نے رات گیارہ بجے کے لگ بھگ دیوار پھاند کر اِس گھر پر دھاوا بول دیا اور میلما کو ہلاک کر دیا‘‘

’’امریکی فوجیوں کے ایک گروپ نے رات گیارہ بجے کے لگ بھگ دیوار پھاند کر اِس گھر پر دھاوا بول دیا اور میلما کو ہلاک کر دیا‘‘

اِس گھر کے ایک محافظ محمد گل نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کے ایک گروپ نے رات گیارہ بجے کے لگ بھگ دیوار پھاند کر اِس گھر پر دھاوا بول دیا اور میلما کو ہلاک کر دیا جبکہ مزید تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

صرف میلما ہی نہیں، گوانتانامو بے کے حراستی کیمپ کے کئی سابق قیدی اپنی رہائی کے بعد پھر سے القاعدہ کے ساتھ وابستہ ہو چکے ہیں۔ 2009ء میں امریکی محکمہء دفاع نے کہا تھا کہ رہا کیے جانے والے اکسٹھ یعنی اندازاً گیارہ فیصد قیدی پھر سے القاعدہ سے وابستہ ہو کر لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک گوانتانامو سے تقریباً 520 قیدیوں کو رہا یا دُنیا کے دیگر حصوں میں واقع جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ 171 قیدی ابھی بھی گوانتانامو میں موجود ہیں۔

وکی لیکس کی طرف سے منظر عام پر لائی جانے والی ایک فائل کے مطابق طالبان کے زوال کے بعد 49 سالہ میلما کو افغان نیشنل آرمی میں بریگیڈیئر جنرل کا عہدہ دیا گیا تھا اور اُسے صوبے کنڑ میں بارڈر سکیورٹی کے اندازاً 600 سپاہیوں کی کمان سونپی گئی تھی۔

تاہم اُس پر شبہ تھا کہ وہ ابھی بھی امریکی فوجی دستوں کے خلاف راکٹ حملوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے چنانچہ 2002ء میں اُسے گرفتار کر کے گوانتانامو پہنچا دیا گیا تھا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس