1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کے لیے نیٹو کے نئے سویلین نمائندے کا انتخاب

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے برطانوی سفارتکار سائمن گاس کو افغانستان کے لئے اپنے نئے سویلین نمائندے کی حیثیت سے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

default

سائمن گاس کی ایرانی صدر احمدی نژاد کے ساتھ ملاقات

سائمن اس وقت ایران میں برطانوی سفیر کی حیثیت سے تعینات ہیں۔ انہیں اس اہم عہدے کی ذمہ داری سرکاری طور پر اپریل میں سونپی جائے گی۔ 14-15 اپریل کو نیٹو کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جرمن دارالحکومت برلن میں منعقد ہوگا۔

سائمن گاس مارک سڈول کی جگہ لیں گے جو ایک سال سے افغانستان میں نیٹو کے نمائندے کی حیثیت سے متعین ہیں۔ ان کا تعلق بھی برطانیہ ہی سے ہے۔

سائمن گاس نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے وقت میں افغانستان میں یہ اہم ذمہ داری سنبھالیں گے، جب یہ شورش زدہ ملک ایک عبوری دور یا تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہوگا۔ یہ وقت افغانستان کے لئے نہایت اہم اور حسّاس ہوگا۔

Afghanistan NATO Marines Soldaten Krieg

افغانستان متعین نیٹو کے فوجی

مارک سڈول، جو ماضی میں کابل میں برطانوی سفیر رہ چُکے ہیں، نے نیٹو کی سربراہی میں افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فورسز کی طرف سے ملکی سلامتی کی ذمہ داری کو افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے سے متعلق ایک پلان پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت افغان فورسز کو ایک ڈسٹرکٹ کے بعد دوسرے ڈسٹرکٹ اور صوبہ بہ صوبہ یہ ذمہ داری سونپی جانی چاہیے اور یہ عمل ملک بھر میں 2014 تک ہوجانا چاہیے۔ اس کے علاوہ مارک سڈوِل نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ افغانستان میں تعینات ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کا عمل بھی فوری طور پر نہیں بلکہ بتدریج ہونا چاہئے۔

نیٹو حکام اس سلسلے میں مارچ تک ایک تفصیلی پلان کے اعلان کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نیٹو نے کہا ہے کہ سڈول اپنا مینڈیٹ پورا کر چُکے ہیں اور مقررہ وقت پر ہی اس عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔

Taliban in Helmand

ہلمند میں سرگرم طالبان عناصر

دریں اثناء جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ اگرچہ نیٹو فورسز نے طالبان کو بھاری نقصانات سے دوچار کیا ہے تاہم اس امر کے قوی امکانات ہیں کہ طالبان باغی موسم بہار کے شروع ہوتے ہی ایک مرتبہ پھر سرگرم ہو جائیں گے۔

پیٹریاس نے بدھ کو نیٹو کے ٹیلی وژن چینل سے نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ اگرچہ خفیہ ایجنسیوں نے طالبان کی صفوں میں پھوٹ ڈالنے اور چوٹی کے طالبان کمانڈروں کو ایک دوسرے کی خلاف کرنے میں کامیابی حاصل کی اور یہ کوشش بھی کی کہ وہ سردیوں کے موسم میں ہی لڑیں۔ تاہم اس بات کو بعید از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ طالبان عناصر موسم بہار میں اپنے علاقے واپس لینے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں نیٹو پوری طرح تیار ہے اور اُسے آئندہ کے چیلنجز کا بھی بخوبی اندازہ ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس