1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کے لیے دو روزہ بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس کا آغاز

برسلز میں آج سے شروع ہونے والی بین الاقوامی افغان ڈونرز کانفرنس میں یورپی یونین نے جنگ زدہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے دو سو ملین یورو کی مشروط امداد کا اعلان کیا ہے۔

Afghanistan Konferenz (DW/M. A. Farahmand)

اس اجتماع کے آغاز پر یورپی یونین نے افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے دو سو ملین یورو کی امداد کا اعلان کیا ہے

آج سے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں افغانستان کے لیے ایک دو روزہ بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس کانفرنس کے شرکاء میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مُون اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ساتھ افغان صدر اشرف غنی اور پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی شامل ہیں۔

اس اجتماع کے آغاز پر یورپی یونین نے افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے دو سو ملین یورو کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اِدھر جرمن وزارتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جرمن وزیرِخارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر افغانستان کو دی جانے والی امداد کو وہاں اصلاحات کے نفاذ اور مہاجرین کی وطن واپسی سے مشروط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران اربوں ڈالر کی بیرونی امداد حاصل کرنے کے باوجود افغانستان دنیا کے غریب اور غیر مستحکم ترین ملکوں میں سے ایک ہے، جہاں بد عنوانی عروج پر ہے اور سلامتی کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ  دی جانے والی امدادی رقم سن دو ہزار سترہ سے سن دو ہزار انیس تک فراہم کی جائے گی، جس کی مدد سے افغان حکومت کرپشن کے خلاف اقدامات اٹھانے اور خود انحصاری کی جانب گامزن ہونے کے حوالے سے ایک اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو سکے گی۔ یورپی یونین کے ترقیاتی امور سے متعلق کمشنر نیون میمیکا نے تاہم خبر دار کیا ہے کہ امدادی رقوم صرف مقررہ اہداف کی جانب اطمینان بخش پیش رفت کی بنیاد پر ہی فراہم کی جائیں گی۔

Aschraf Ghani Präsident von Afghanistan (Getty Images/AFP/S. Marai)

افغان صدر اشرف غنی بھی ڈونرز کانفرنس میں شرکت کے لیے برسلز پہنچے ہیں

 یورپی یونین کی میزبانی میں منعقد کی جانے والی اس انٹرنیشنل ڈونرز کانفرنس میں ستّر سے زائد ممالک اور تیس کے قریب بین الاقوامی تنظیمیں شریک ہو رہی ہیں، جن کا مقصد افغانستان کوآئندہ چار برسوں کے لیے فنڈز مہیا کرنا ہے۔ کانفرنس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل کیمپین گروپ نے ڈونرز کو تنبیہ کی کہ وہ کابل حکومت سے امدادی رقوم کی فراہمی کو افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے ساتھ مشروط کریں۔

 یہ مطالبہ ان دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کیا گیا ہے، جن کے مطابق جرمن حکومت قریب اسّی ہزار افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔  اتوار کے روز  یورپی بلاک اور کابل حکومت کے درمیان اُن افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا، جنہیں یورپ میں رہنے کا کوئی حق نہیں دیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ جرمنی افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔

امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے توقع ظاہر کی تھی کہ ڈونر ممالک اور امدادی ادارے افغانستان کی ترقی کی مد میں ہر سال تین بلین امریکی ڈالر تک کے عطیات دیں گے تاہم یہ کہ امداد کی فراہمی کا انحصار اصلاحات کے نفاذ اور بد عنوانی کے خاتمے پر ہوگا۔

دریں اثناء منگل کے روز افغان فورسز نے امریکی اتحادی افواج کے ساتھ مل کر طالبان کو افغانستان کے شمالی شہر قندوز سے نکال باہر کرنے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ ایک روز قبل طالبان جنگجو تمام اطراف سے دھاوا بولتے ہوئے قندوز شہر کے مرکز تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔