1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کے لیے بھارتی امداد ، طالبان چراغ پا

افغان طالبان نے بھارت کے طرف سے افغان حکومت کو ایک بلین ڈالرز کی امداد پر سخت ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افغان عوام سے دشمنی ہے۔

اس امداد کا اعلان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی نئی دہلی میں ملاقات کے بعد کیا گیا۔ افغان صدر اشرف غنی نے بدھ 14 ستمبر کو اپنے دورہ بھارت کے موقع پر اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات کی۔ غنی نے اس موقع پر پاکستان کا نام لیے بغیر اس کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں رہنماوں نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا اور کسی ملک کا نام لیے بغیرسیاسی مقاصد کے لیے خطے میں دہشت گردی اور تشدد کو استعمال کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اس اتفاق پر کابل حکومت کے خلاف لڑنے والے افغان طالبان چراغ پا ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، ’’امریکا کی غلام کابل حکومت کو کوئی بھی ملک اگر امداد دے گا تو یہ افغان عوام سے دشمنی کرنے کے مترادف ہوگا۔ افغان حکومت چاہے اسے معاشی امداد کا نام دے، وہ ان پیسوں سے ہتھیار خرید کر افغان بچوں، خواتین اور عوام کو نشانہ بنائے گی۔ ہم ایسی امداد کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے افغانستان کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔‘‘
نہ صرف افغان طالبان بلکہ پاکستان کو بھی اس معاہدے پر تشویش ہے۔ اسلام آباد میں اس معاہدے کو ایک ایسی بھارتی کوشش سے تعبیر کیا جارہا ہے، جس کے ذریعے وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو مذید مضبوط کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرے گا۔

امداد کا اعلان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی نئی دہلی میں ملاقات کے بعد کیا گیا

امداد کا اعلان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی نئی دہلی میں ملاقات کے بعد کیا گیا


پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نی ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’افغانستان آگ سے کھیل رہا ہے۔ آپ اپنے پڑوسی کے جانی دشمن سے قربتیں بڑھا کر اپنے ملک کی خدمت نہیں کر رہے۔ افغانستان اور پاکستان کے تاریخی رشتے ہیں۔ تقریبا چوبیس سو کلو میڑ کا باڈر ہے۔ افغان حکومت کو سردار داؤد کی طرح افغانستان کو غیر جانبدار ملک بنانا چاہیے تھا۔ نہ ان کو پاکستان کے حلقہ اثر میں جانا چاہیے اور نہ ہی انہیں نئی دہلی کے بہت قریب جا نا چاہیے۔ اس معاہدے کو پاکستان میں بہت تشویش کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ یہ سمجھا جائے گا کہ بھارت اپنے قدم مضبوط کر رہا ہے اور بلوچستان میں مداخلت کو مزید تیز کرنے کی سازش کر رہا ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بظاہر اسے معاشی امداد کہا جارہا ہے لیکن اِس کے مقاصد عسکری ہیں۔ بارڈر کنٹرول اور مہاجرین کے مسئلے پر پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی چل رہی ہے۔
بھارت اِس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ جب افغان یہ دیکھیں گے کہ بھارت اُن کے ملک میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے تو وہ اس کے حامی ہوجائیں گے اور یوں بھارت کو وہاں مضبوط قدم جمانے کے مواقع مل جائیں گے، جس کے ذریعے وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا۔ تو اِس کا مطلب ہے کہ یہ معاہدہ در حقیقیت عسکری ہے، گو کہ ظاہریت میں یہ معاشی لگتا ہے۔‘‘

افغانستان اور بھارت کے درمیان اس اتفاق پر کابل حکومت کے خلاف لڑنے والے افغان طالبان چراغ پا ہیں

افغانستان اور بھارت کے درمیان اس اتفاق پر کابل حکومت کے خلاف لڑنے والے افغان طالبان چراغ پا ہیں


سینیٹر افراسیاب خٹک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہمارا یہ کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت دونوں خود مختار اور آزاد ملک ہیں اور وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ بھارتی امداد اس بات کا اشارہ ہے کہ نئی دہلی اور کابل میں تعلقات خوشگوار ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے تعلقات افغانستان کے ساتھ اچھے نہیں ہیں۔کاش ہمارے تعلقات بھی ان کے ساتھ اچھے ہوتے۔ میں اس معاہدے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ہی کر سکتا ہوں۔‘‘
پاکستان کے افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’’جب اشرف غنی اقتدار میں آئے تو وہ پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ اڑتالیس ایم او یوز پر بھی دستخط کیے۔ پاکستان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے گا اور ہم وہ وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ زرداری صاحب بھی اور ہماری موجودہ سویلین حکومت بھی کابل کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے لیکن ہماری سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔ وہ اب بھی اچھے اور برے طالبان اور اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے تصور پر یقین رکھتی ہے۔ دوہزار چودہ میں پاکستان کے حوالے سے افغان رائے عامہ بہت مثبت تھی لیکن اب وہ افغانستان میں خون ریزی کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتے ہیں۔ اِن سارے مسائل کے باوجود دونوں ملکوں میں تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں اگر ہم اپنی پرانی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کریں۔‘‘