1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کے لئے نیٹو کی نئی حکمت عملی

افغانستان میں طالبان حکومت کی بے دخلی کے بعد سے وہاں تعینات نیٹو افواج کے لئے رواں برس بدترین رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے لئے نیٹو کی حکمت عملی ازسر نو ترتیب دی جا رہی ہے۔

default

افغانستان کے لئے نیٹو کی نئی حکمت عملی کا خاکہ نئی امریکی حکومت نے تیار کیا ہے اور اِس کی منظوری اپریل کے اوائل میں نیٹو کی سربراہ کانفرنس کے دوران دی گئی تھی۔ اِس نئی حکمتِ عملی کا مقصد وہاں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو کامیاب بنانا ہے۔ اِس حکمتِ عملی کو عملی شکل دینے کی ذمہ داری افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر امریکی جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کو سونپی گئی ہے، جو اپنی سفارشات ایک رپورٹ کی شکل میں اگلے ہفتے پیش کرنے والے ہیں۔

Der neue Oberkommandierende der US- und NATO-Truppen in Afghanistan Stanley A. McChrystal

افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر امریکی جنرل اسٹینلے میک کرسٹل

جنرل میک کرسٹل نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ افغان جنگ میں سنجیدہ طرز عمل کو جاری رکھتے ہوئے ماضی میں اختیار کئے گئے طریقہء کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی درست سمت میں قدم اٹھاتے ہوئے دانشمندانہ فیصلے بھی کرنا ہوں گے۔

جنرل میک کرسٹل افغانستان میں تعینات فوجیوں کے لئے پہلے ہی بعض نئے ضوابط کا اعلان کر چکے ہیں، جن کے تحت شہریوں کے تحفظ کو بھی اوّلین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ فوجیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل اس کے ہر پہلو کا اچھی طرح سے جائزہ لیں۔

جنرل میک کرسٹل کہتے ہیں کہ نیٹو افواج افغان عوام کی حمایت سے ہی جنگ جیت سکتی ہیں۔

نئی حکمتِ عملی میں مقامی پولیس اور فوج کی تربیت پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں اس وقت مقامی فوجیوں کی تعداد اسّی سے نوے ہزار کے درمیان ہے جبکہ مقامی پولیس اہلکاروں کی تعداد بھی کم و بیش یہی ہے اور اس تعداد میں اضافے کے لئے نیٹو کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بیشتر رکن یورپی ممالک افغانستان کے لئے اضافی فوجیوں کی فراہمی کے لئے تیار نہیں۔ بیلجیئم میں نیٹو کے ہیڈکوارٹرز سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکہ اب یہ بات سمجھ گیا ہے کہ اس کے یورپی اتحادی افغانستان کے لئے اضافی فوجی فراہم نہیں کریں گے۔ امریکہ رواں برس اپنے تیس ہزار سے زائد اضافی فوجی افغانستان بھیج چکا ہے، جس کے بعد وہاں تعینات غیرملکی فوجیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

AFGHANISTAN_NATO_FORCES_KND.jpg

افغانستان میں ایک لاکھ سے زائد غیرملکی فوجی تعینات ہیں

اُدھر برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن آج ہفتہ کو اچانک دورہ پر افغانستان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنے فوجیوں کے ساتھ جنرل میک کرسٹل سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر گورڈن براؤن نے بھی وہاں مقامی پولیس اور فوج کی تربیت پر زور دیا۔

جرمنی نے افغانستان میں مقامی پولیس کی تربیت کے لئے ایک سو بیس اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ نیٹو کے ایک اعلیٰ عہدے دار کا کہنا ہے کہ جرمنی کی جانب سے تربیت کاروں کی تعداد میں تین گنا اضافہ متوقع ہے۔

دوسری جانب پیرس حکام نے آئندہ بدھ کو افغانستان اور پاکستان کے لئے مقرر کردہ خصوصی ایلچیوں کا ایک اجلاس طلب کیا ہے، جس میں افغانستان کے حالیہ انتخابات کا جائزہ لیا جائے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM