1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کے لئے نئی جرمن پالیسی کا اعلان

جرمن حکومت نے اپنے مزید پانچ سو فوجی دستے بحران زدہ افغانستان روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کے روز برلن سے جاری کردہ ایک اعلان میں کہا گیا کہ جرمنی افغانستان میں ترقیاتی سرگرمیوں کو دوگنا کرے گا۔

default

برلن حکومت کا یہ اعلان افغانستان کے موضوع پر لندن کانفرنس کے انعقاد میں جرمن نقطہء نظر کی وضاحت کرے گا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برلن میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ جرمنی افغانستان میں پانچ سو اضافی فوجی بھیجے گا۔ لیکن میرکل نے ساتھ ہی کہا کہ بحران زدہ افغانستان میں موجود جرمن فوجیوں کے کردار میں واضح تبدیلی لائے جائے گی۔ میرکل کے مطابق افغانستان میں امن کا قیام اور تعمیر و ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں اور یہ کہ ان دونوں ہی شعبوں پر بیک وقت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جرمن حکومت کی جانب سے اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے فیصلے کی توثیق کے لئے بدھ کو جرمن پارلیمان میں بحث بھی ہورہی ہے۔

Regierung Guttenberg Afghanistan Soldaten Krieg Symbolbild

جرمن وزیردفاع سوگٹن برگ

برلن حکومت کی جانب سے یہ اعلان لندن میں افغانستان کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس کے انعقاد سے محض دو روز قبل سامنے آیا۔ میرکل نے اپنے بیان میں کہا کہ ان پانچ سو فوجیوں کے علاوہ، ضرورت پڑنے پر، 350 اضافی فوجی بھی قلیل وقت کے لئے افغانستان بھیجے جا سکیں گے۔ تاہم میرکل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگلے برس سے جرمن فوجیوں کے انخلاء کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ میرکل کے مطابق جرمنی لندن کانفرنس کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔

’’جرمن اس کانفرنس کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔ ہم نے اپنے بین الاقوامی پارٹنرز بالخصوص برطانیہ اور فرانس سے تبادلہء خیال کیا ہے۔‘‘

امریکہ اور برطانیہ کے بعد جرمنی افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ شمالی افغانستان میں اس وقت 43 سو جرمن فوجی تعینات ہیں۔

Merkel Afghanistan Soldaten Krieg Symbolbild

میرکل افغانستان میں متعین فوجیوں کے ہمراہ

میرکل کے مطابق اضافی فوجیوں کی تعیناتی کا بنیادی مقصد ایک طرف تو افغانستان میں امن کے قیام کی کوششوں کو تیز تر کرنا ہے مگر ساتھ ہی یہ فوجی افغان سیکیورٹی فورسز کے تربیتی عمل کی رفتار میں بھی اضافہ کریں گے۔ میرکل نے کہا کہ افغانستان کی تعمیر و ترقی بھی وہاں امن کے قیام میں بنیادی کردار کی حامل ہے۔

میرکل نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ جرمنی عسکریت پسندی کا راستہ ترک کرکے معاشرتی دھارے میں شامل ہونے کے خواہشمند طالبان کے روزگار وغیرہ کے لئے پچاس ملین یورو کی رقم بھی فراہم کرے گا۔ تاہم میرکل نے کہا کہ یہ رعایت صرف ایسے طالبان کو ہی دی جائے گی، جو نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ صرف بے روزگاری کی وجہ سے طالبان کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میرکل نے افغانستان کی ترقی کے لئے ترقیاتی فنڈز کو بھی دو سو بیس ملین یورو سالانہ سے بڑھا کر چار سو تیس ملین یورو کرنے کا بھی اعلان کیا۔

امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے افغانستان میں تیس ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد سے نیٹو اتحاد میں شامل ممالک پر دباؤ ہے کہ وہ بھی افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنے اضافی فوجی روانہ کریں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM