1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کے حوالے سے عالمی کانفرنس کی تجویز

جرمنی اور برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے رواں برس کے اختتام پر بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے گی۔متوقع طور پر یہ کانفرنس افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ہو گی۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران

برلن میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس میں افغان حکومت، نیٹو، امریکہ، اقوام متحدہ اور افغانستان میں فوجی دستے بھیجنے والے ممالک کے وفود مدعو کئے جائیں گے۔ اس بین الاقوامی کانفرنس کے حوالے سے فی الحال یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کانفرنس کہاں ہو گی۔

برطانوی وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس بین الاقوامی کانفرنس میں افغانستان کی سلامتی اور سیکیورٹی فورسز کی تربیت مرکزی موضوع رہیں گے۔ براؤن نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں افغان شہریوں کو یہ بات سمجھائی جانی چاہئے کہ وہ اپنے ملک کی سلامتی کے لئے خود کس طرح بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

’’ہم دونوں اس کانفرنس کی حمایت کرتے ہیں جو اگلی افغان حکومت، اقوام متحدہ، نیٹو اور تمام اتحادی ممالک کو قریب لا سکے تاکہ ہم اپنے مشن کے آگلے مرحلے کی جانب بڑھ سکیں۔ ‘‘

میرکل نے کہا : ’’ہمارا مقصد نئی افغان حکومت کو زیادہ مستحکم اور بااختیار بنانا ہے تا کہ وہ ملکی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھا سکے۔‘‘

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ اس سلسلے میں فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی سے بھی بات چیت کی جا چکی ہے اور انہوں نے بھی اس تجویز سے بھرپور اتفاق کیا ہے۔ براؤن اور میرکل کے مطابق اس کانفرس کے بارے میں نیٹو اور امریکہ کو بھی مطلع کیاجا چکا ہے۔

انگیلا میرکل نے مزید کہا : ’’ہم افغان فورسز کی تربیت اور شہری تعمیر نو کی بھرپور مدد جاری رکھیں گے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم افغانستان کی سلامتی سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔ ہمیں ضرور آگے بڑھنا ہے اور افغان قوم کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ یہ ذمہ داری اٹھا سکے اُسی وقت ہم وہاں اپنی موجودگی کو آہستہ آہستہ کم کر سکتے ہیں ۔‘‘

جرمن چانسلر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جمعرات کے روز افغان علاقے قندوز میں نیٹو فورسز کے فضائی حملے میں کسی عام شہری کی ہلاکت کے حوالے سے فوری تحقیقات ہونی چاہئیں۔

’’وفاقی جرمن حکومت اور میں نیٹو تحقیقاتی ٹیم سے اس واقعے کی فوری تحقیقات چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس واقعے میں عام شہری تو ہلاک نہیں ہوئے۔ اگر اس واقعے میں کوئی عام شہری ہلاک ہوا ہے تو مجھے اس کا شدید دکھ ہو گا۔ ہماری حکمت عملی کا مرکزی نکتہ ہی افغان عوام کا اعتماد جیتنا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ نیٹو کی طرف سے یہ حملہ افغانستان میں متعین جرمن فوجی دستوں کے کمانڈر کے کہنے پر کیا گیا تھا۔ جرمن کمانڈر نے نیٹو کو حملے کے لئے اُس وقت کہا، جب جرمن فوجی اڈے کے قریب مشتبہ طالبان نے دو پیٹرول ٹینکروں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس واقعے کے بعد افغان حکام کی جانب سے کہا گیا تھاکہ طالبان عسکریت پسندوں نے ان ٹینکروں پر قبضہ کر لیا تھا تاہم جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت عام شہری ان ٹیکروں سے اپنے استعمال کے لئے پیٹرول چرا رہے تھے۔

دوسری طرف افغان صدر حامد کرزئی حالیہ صدارتی انتخابات میں مطلوبہ پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے کے قریب تر آ گئے ہیں۔گزشتہ روز جاری کئے گئے جزوی نتائج کے مطابق ، حالیہ انتخابات میں حامد کرزئی کو اب تک 48.6 فیصد ووٹ حاصل ہو چکے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM