1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کے حوالے سے جرمن پالیسی، اگلے تین سال بہت اہم

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے آج افغان پالیسی کے حوالے سے پارلیمان کے سامنے حکومتی وضاحتی بیان پیش کیا۔ اس کے مطابق اگلے تین برسوں کے دوران زیادہ تر جرمن فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لیا جائے گا۔

default

ہم افغان عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، جرمن وزیر خارجہ

افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء کا عمل شروع ہو چکا ہے اور یہ 2014ء تک مکمل ہو جائے گا۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے آج افغانستان کے موضوع پر حکومت کی جانب سے وضاحتی بیان پیش کیا۔ ان کے مطابق اگلے تین برسوں کے دوران جرمن فوجیوں کی اکثریتی تعداد افغانستان سے واپس بلا لی جائے گی۔ اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومت کے فیصلے کی تائید کی ہے۔ جبکہ بائیں بازو کی پارٹی دی لنکے اور ماحول دوست گرین پارٹی کے لیے تین سال کا عرصہ بہت زیادہ ہے۔

جرمن وزیر خارجہ ویسٹر ویلے نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ انخلاء کا فیصلہ افغان پالیسی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم موڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ اور اگر گزشتہ دس برسوں سے اس کا موازنہ کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق ہے۔

ویسٹر ویلے کے بقول اب مقامی دستے اپنے سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام نے امن کے قیام کے لیے سنجیدگی سے مفاہمت کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ افغان دستے بتدریج ملک کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں اور اگلے برس فروری تک افغانستان کی تقریباً نصف آبادی کی سلامتی کی ذمہ داری ان کے ہاتھوں میں ہو گی۔

Afghanistan Konferenz Westerwelle

انخلاء کا فیصلہ افغان پالیسی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم موڑ ہے، ویسٹر ویلے

ویسٹر ویلے نے کہا کہ اس دوران افغانستان میں متعدد شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے اور اس میں جرمن فوجیوں اور سفارت کاروں کا بہت بڑا کردار ہے۔ساتھ ہی انہوں نےکہا کہ بہت سے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اب بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ ’’ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہت ہی سست روی کے ساتھ بہتری آ رہی ہے۔ افغان آئین میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کو شامل کیا جا چکا ہے لیکن ان پر پوری طرح سے عمل درآمد ابھی تک شروع نہیں کیا گیا‘‘۔

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کے بقول افغانستان میں کچھ بھی آسان نہیں ہے، بہت سے نتائج توقعات کے برخلاف ہیں اور یہ مشکلات برقرار بھی رہیں گی۔ تاہم انہوں کہا کہ بہت کچھ حاصل کیا جا چکا ہے اور بہتری لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

ویسٹر ویلے نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا اور انخلاء کے بعد بھی افغانستان کے ساتھ پہلے ہی کی طرح تعاون جاری رکھا جائے گا۔ ’’ہم افغان عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور 2014 ء کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ دہشت گردوں کے لیے کسی قسم کا خلاء نہیں چھوڑا جائے گا‘‘۔

جرمن پارلیمان کےسامنے آج جب وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے افغانستان سے جرمن افواج کے انخلاء کا پروگرام پیش کیا، تو عمومی طور پر اس کی حمایت کی گئی۔ تاہم گرین پارٹی اور دی لنکے کا مؤقف تھا کہ جرمن افواج کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: حماد کیانی

DW.COM