1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان کے حوالے سے جرمنی میں نئی بحث

شمالی افغانستان میں جرمن افواج کی موجودگی کے باوجود جب تک طالبان ان کے خلاف بارودی سرنگیں بچھانے اور ان پرحملہ کرنے کی منصوبہ بندی میں کامیاب ہوتے رہے گے، حالات ڈرامائی طورپر تبدیل ۔ہو سکتے ہیں ، نینا ویرک ہوئزر

default

دو اپریل کو افغانستان میں تین جرمن فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد جرمنی میں ایک مرتبہ پھر اس بحث کا آغاز ہو گیا ہےکہ جنگ کے دوران سپاہیوں کوکس طرح کے ہتھیار، آلات اورسامان مہیاکئے جانے چاہیں؟ دوسری طرف جرمن وزیردفاع نے کہا ہےکہ افغانستان میں جرمنی کو ’جنگ‘ کا سامنا ہے۔ اس لفظ کے جرمن فوجیوں کے لئے کیا معنی ہیں؟

ڈوئچے ویلے کی تبصرہ نگار نینا ورک ہوئزرکہتی ہیں کہ ایک مرتبہ پھر سیاستدان افغانستان میں برسرپیکار جرمن فوجیوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں مصروف ہیں اور ایک مرتبہ پھر اس مسئلے پرجاری بحث ناکافی ہے۔ بات صرف جنگی آلات اوراسلحہ کی ہے۔ کیا ان دونوں میں بہتری نہیں لائی جا سکتی؟

Infografik Einsatzgebiete der Bundeswehr in Afghanistan

جرمن افواج شمالی افغاستان میں تعینات ہیں

اس حوالے سے سیاستدانوں کے زبانی جمع خرچ جاری رہتے ہیں اور بات چیت میں تو وہ جدید جنگی ٹینکوں اور دیگر سامان حرب کو افغانستان میں دیکھتے ہیں۔ اس حوالے سے تیارکی جانے والی فہرستوں میں ہر وہ عسکری سامان شامل کر لیا جاتا ہے، جو اسلحہ سازی کی صنعت میں موجود ہوتا ہے۔ تاہم خواب حقیقت نہیں بن پاتے۔

جرمنی میں بہترین اور جدید جنگی سامان کے حصول کے لئے جاری لڑائی بظاہرنقلی جھڑپ دکھائی دیتی ہے۔ اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ان حالات اور سامان کے ساتھ جرمن فوجی افغانستان میں اپنی کارروائیاں پہلے کی طرح جاری نہیں رکھ سکتے۔ شمالی افغانستان میں جرمن افواج کی موجودگی کے باوجود جب تک طالبان ان کے خلاف بارودی سرنگیں بچھانے، بارودی مواد اکٹھا کرنے اوران پرچھپ کر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی میں کامیاب ہوتے رہیں گے، حالات کو ڈرامائی طور پرتبدیل ہونے میں وقت نہیں لگے گا۔

Flash-Galerie Bundeswehr in Afghanistan

2002ء سے اب تک 39جرمن فوجی افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں

ایسی صورتحال میں جرمن افواج کو پہلے اپنے دفاع پر توجہ دینی ہوگی نہ کہ تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبوں پر۔ اگر گشت کرنے والی ہرگاڑی پرحملوں کا ڈرہو گا تو قندوزاور مزار شریف کے ارد گرد جرمن افواج بہت محدود ہو کر رہ جائیں گی۔

جرمن فوج کو طالبان کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ شورش زدہ علاقے میں شہریوں کی سلامتی کوممکن بنایا جائے اوراگر انہیں ایسا کرنے میں دشورای ہے تو اس صورت میں انہیں وہ جگہ چھوڑ دینا ضروری ہے۔ 2010ء کو افغانستان کے حوالے سے فیصلہ کن سال قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد غیر ملکی فوجی اس وقت وہاں مصروف ہیں۔ نیٹوکی تمام تر کوششوں کے باوجود، افغانستان میں عسکری کارروائیوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ مغربی طاقتیں زور زبردستی سے وہاں امن قائم کرنا چاہتی ہیں۔ یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔

Afghanistan Bundeswehr Trauerfeier

ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعزیتی تقریب میں جرمن چانسلر اور وزیردفاع شریک تھے

اتحادی افواج طالبان کے خلاف برسر پیکار ہیں لیکن انہیں افغان صدر حامد کرزئی کی پہلے جیسی حمایت حاصل نہیں ہے۔ حامد کرزئی مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلی کے طور پر مشہور ہیں اورافغانستان کے لئے اس اہم ترین سال میں، ان کی سیاسی رویے میں تبدیلی ایک بہت بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔

کچھ بھی ہو افغانستان میں جرمن افواج اس وقت ایک طرح کی بند گلی میں داخل ہو چکی ہیں اوراس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت نے تنبیہی اشاروں پرتوجہ نہیں دی اور مسائل کو نظرانداز کیا۔جنگ جب شمالی افغانستان تک پہنچ چکی تھی، حکومت کامیابیوں اوراستحکام کے خوابوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ بہرحال اب برلن میں حکومتی حلقے افغانستان میں جنگ کی بات کر رہے ہیں لیکن جرمن فوجیوں کا کیا ہوگا، جنہیں صرف اپنے دفاع کی ہی اجازت ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : افسر اعوان