1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان کی ’گونتاناموبے‘ سے، پاکستانیوں کی رہائی کے لیے جنگ

تین سال پہلے ایک نوجوان حمید اللہ خان کو پاکستان کے قبائلی علاقے سے اچانک غائب کر دیا گیا تھا۔ ایک سال کی تلاش کے بعد پتہ چلا کہ وہ امریکہ کی تحویل میں ہے۔

default

جس وقت حمید اللہ خان کو غائب کیا گیا اس وقت اس کی عمر 14 برس تھی۔ ان کے رشتہ داروں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسے بگرام ائیر بیس کے امریکی حراستی مرکز میں کیوں رکھا گیا ہے، اس کا جرم کیا ہے اور وہ اسے دوبارہ کب دیکھ سکیں گے۔

حمیداللہ خان کے والد وکیل خان کا کہنا ہے، ’ہم جب بھی کچھ کھاتے یا پیتے ہیں، اسے یاد رکھتے ہیں۔ اگر اس کی موت واقع ہوچکی ہوتی تو شاید ہم اسے بھول چکے ہوتے لیکن جب کوئی گم ہو جاتا ہے تو پھر آپ اسے نہیں بھول سکتے‘۔

 خان کے والد کا مزید کہنا ہے،’اس کی ماں نے شاید ہی گزشتہ تین سال سے کچھ پیٹ بھر کے کھایا ہو اور  اب  وہ ذیابیطس کے مرض سے دوچار ہے۔ اس کی دادی اس کے غم میں نڈھال اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے‘۔

Gefängnisaufstand in Afghanistan

ریڈ کراس کے مطابق بگرام جیل میں مجموعی طور پر 18 پاکستانی قید ہیں

حمید اللہ خان کے خاندان کا کہنا ہے کہ اسے آخری مرتبہ جنوبی وزیرستان کے ایک بس سٹاپ پر دیکھا گیا تھا، جب وہ کراچی میں اپنے گھر واپس آنے کی تیاری میں تھا۔ حمید اللہ کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کے بارے میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اس کارکن کے ذریعے پتہ چلا، جس نے ان کا کیس انٹرنیشنل کمیٹی ریڈ کراس کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس تنظیم کو جیل میں قیدیوں سے ملاقات کی اجازت ہے۔

اس خاندان کے وکلاء کا دعوی ہے کہ 17 سالہ حمید اللہ خان کو پاکستانی حکام نے امریکہ کے حوالے کیا ہے اور انہوں نے اس بارے میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔ تاہم ابھی تک حکومت پاکستان نے اس کیس میں اپنے کردار کے بارے میں عدالت کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا ہے۔

’جسٹس پروجیکٹ پاکستان‘ سے منسلک سارہ بلال کا کہنا ہے کہ بگرام جیل میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نوعیت گوانتاناموبے جیسی ہے۔

اسلام آباد حکومت کے خلاف اس کیس کی معروف وکیل کا کہنا ہے، ’ہم پاکستانی حکومت کے کردار کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اشتراک کی نوعیت کیا ہے‘۔

امریکی میڈیا کے مطابق بگرام جیل میں اس وقت پچیس سو کے قریب افراد قید ہیں، جن میں سے ایک حمیداللہ خان بھی ہے۔ ریڈ کراس کے مطابق بگرام جیل میں مجموعی طور پر 18 پاکستانی قید ہیں۔

ماہرین کی نظر میں اگر لاہور کا قانونی چیلنج کامیاب بھی ہو جاتا ہے تو حمیداللہ خان جیسے قیدیوں کی رہائی جلد ممکن نہیں ہے۔ اسلام آباد میں ’سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز‘ کے سربراہ امتیاز گُل کا کہنا ہے، ’ان کی رہائی کے لیے امریکہ پر کوئی بھی دباؤ نہیں ڈال سکتا‘۔ انہیں شک ہے کہ امریکہ کے حوالے کیے گئے افراد کو کبھی بھی رہا نہیں کیا جائے گا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM