1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کی صورتحال بہتر جبکہ پاکستان کی پیچیدہ، جان کیری

امریکی حکام نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں سیاسی مصالحت کی کوششوں کی کامیابی کی امید پیدا ہوئی ہے لیکن دوسری طرف ہمسایہ ملک پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پیچیدہ اور مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

default

امریکی سینیٹر جان کیری

حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کا دورہ کرنے والے امریکی سینیٹر جان کیری نے سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ایک اجلاس میں کہا کہ القاعدہ نیٹ ورک کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں قیام امن کے لیے سیاسی سطح پر مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

اس اجلاس کی سربراہی کرنے والے جان کیری نے کہا،’ افغانستان کے جنگ کے لیے یہ ایک انتہائی اہم وقت ہے‘۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مخصوص وقت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جان کیری کے بقول افغانستان میں درمیانی اور چھوٹی سطح کے جنگجو ہتھیار پھینکنے کے لیے تیار ہیں اور واشنگٹن حکومت کو افغانستان کے ساتھ مل کر ایسے جنگجوؤں کو احساس دلانا ہو گا کہ اگر وہ واقعتاﹰ تشدد کا راستہ ترک کر کے معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔

Premierminister John Kerry und Yousaf Raza Gilani in Islamabad Pakistan NO FLASH

جان کیری نے اپنے حالیہ دورہء پاکستان کے دوران وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کی تھی

امریکی صدر باراک اوباما کے قریبی ساتھی جان کیری نے پاکستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حکومت کو پاکستان میں انتہا پسندی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں کی نامناسب نگرانی کے باعث یہ انتہا پسند آسانی سے سرحد پار آ اور جا سکتے ہیں۔

جان کیری نے کہا،’ پاکستان کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے ماہرانہ سفارتکاری کی ضرورت ہے کہ اسلام آباد حکومت کو اپنے ملک کی مشرقی سرحدوں سے خطرہ نہیں بلکہ اسے یہ خطرہ ملک کے اندر پائی جانے والی انتہا پسندی سے ہے۔ اس اجلاس کے دوران امریکی سینیٹرز نے ایسی خبروں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ پاکستانی حکومت کے کچھ عناصر مبینہ طور پر افغان طالبان باغیوں اور لشکر طیبہ جیسی انتہا پسند تنظیموں کی مدد کر رہے ہیں۔

ڈیموکریٹ سینیٹر بین کارڈن نے شکاگو میں جاری ممبئی حملوں سے متعلق عدالتی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی بھی ملوث تھا،’ میں یہ نہیں جانتا کہ امریکہ یہ بات کیسے نظر انداز کر سکتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوڈ ہیڈلی کے اس بیان کے بعد امریکی حکومت کو اسلام آباد حکومت سے کھل کر بات کرنی چاہیے۔

اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کے بعد ایسی قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ پاکستانی فوج کے کچھ عناصر نے اسامہ کو پناہ دے رکھی تھی۔ ایسی اطلاعات کے تناظر میں کچھ امریکی سینیٹرز نے ان خدشات کا اظہار بھی کیاکہ پاکستان کے جوہری اثاثے ممکنہ طور پر دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

کچھ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برس کے دوران پاکستان کو20 بلین ڈالر کی امداد دی گئی ہے تاہم ابھی تک دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی پالیسی کام کرتی دکھائی نہیں دے رہی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس