1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کا یوم آزادی، انتہائی سخت سکیورٹی کے سائے میں

جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان آج اپنا یوم آزادی منا رہا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران متعدد خونریز حملوں کے باعث افغان دارالحکومت کابل میں اس موقع پر سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔

آج 19 اگست کو افغانستان اپنا 98واں یوم آزادی منا رہا ہے۔ آج ہی کے روز 1919ء میں راولپنڈی میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت افغانستان کو برطانیہ سے مکمل آزادی ملی تھی۔ حالانکہ تین خونی جنگوں کے باوجود افغانسان کبھی بھی مکمل طور پر برطانوی سلطنت کا حصہ نہیں بن سکا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان کا سُرخ، سیاہ اور سبز رنگوں پر مشتمل تین رنگا جھنڈا کابل کی کئی گلیوں میں لہراتا نظر آ رہا ہے تاہم افغانستان کے زیادہ تر حصوں میں یہ دن بغیر کسی جوش وجذبے کے بغیر ہی گزر جائے گا۔ اس کی وجہ عام افغان کا وہ غم وغصہ بھی ہے جو سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور امریکی سربراہی میں افغانستان میں موجود بین الاقوامی اتحادی افواج کی طرف سے جاری خانہ جنگی کی صورت میں ایک طرحر کی ناکامی کے باعث پایا جاتا ہے۔

حالیہ چند برسوں کے دوران افغان دارالحکومت کابل میں اس دن کے حوالے سے کوئی بڑی عوامی تقریبات منعقد نہیں کی گئیں۔ رواں برس 31 مئی کو ہونے والے ٹرک بم حملے کے سبب کابل میں سکیورٹی کے حوالے سے مزید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں 150 ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی اکثریت عام افغان شہریوں کی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی تھی۔

اے ایف پی کے مطابق افغانستان کے یوم آزادی کے موقع پر آج ہفتہ 19 اگست کو کابل شہر میں سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں۔ افغان پاپ اسٹار آریانا سعید نے آج کے دن ایک میوزک کنسرٹ کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ افغان صدر اشرف غنی افغان اعلیٰ حکام کے لیے ایک پرائیویٹ تقریب کی میزبانی کریں گے۔ یہ تقریب صدارتی محل میں منعقد ہو رہی ہے۔ افغان وزرات دفاع کے ترجمان دولت وزیری کے مطابق صدر اشرف غنی اس تقریب سے خطاب کریں گے اور وزارت دفاع کے کمپاؤنڈ میں تعمیر کیے گئے آزادی مینار پر پھولوں کا گلدستہ بھی رکھیں گے۔

Afghanistan Unabhängigkeitstag Präsident Ashraf Ghani (Reuters/O. Sobhani)

افغان صدر اشرف غنی افغان اعلیٰ حکام کے لیے ایک پرائیویٹ تقریب کی میزبانی کریں گے

شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے۔ کابل پولیس کے ترجمان عبدالبصیر مجاہد نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہماری پولیس کے تمام یونٹ انتہائی الرٹ ہیں اور انہیں شہر بھر میں تعینات کیا گیا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارتی علاقوں اور اس کے ارد گرد پولیس چیک پوائنٹس میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

DW.COM